اترپردیش میں 69 ہزار ٹیچر بھرتی معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ بدھ کے روز یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں امیدواروں نے پھر سے دھرنا و مظاہرہ کیا۔ اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں امیدوار اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کے لیے پہنچے۔ مظاہرے کے دوران احتجاجی امیدوار گلے میں جھاڑو اور مٹکی لٹکا کر پہنچے تھے اور بی جے پی زیر قیادت ریاست کی یوگی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرہ کر رہے امیدواروں نے الزام لگایا کہ حکومت دلت اور پسماندہ لوگوں کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التویٰ معاملے میں اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی طرف سے وکیل نہیں کھڑا ہورہا ہے جس کی وجہ سے معاملے میں پیروی نہیں ہوپا رہی ہے۔
بدھ کے روز تیز دھوپ اور شدید گرمی کے درمیان اسمبلی کا گھیراؤ کرنے پہنچے سینکڑوں امیدواروں کو حراست میں لے لیا گیا اور سبھی کو ایکو گارڈن بھیج دیا گیا ہے۔ امیدوار گزشتہ 3 برسوں سے 69 ہزار ٹیچر بھرتی معاملے میں ’ریزرویشن مہا گھوٹالے‘ کا الزام لگا رہے ہیں۔ بتادیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں جون 2020 اور جنوری 2020 کی تقرری فہرستوں کو منسوخ کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یوپی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ 2019 میں ہوئی اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی امتحان (اے ٹی آر ای) کی بنیاد پر 69 ہزار اساتذہ کے لیے نئی تقرری لسٹ 3 ماہ کے اندر جاری کرے۔ تب سے یہ معاملہ ٹھنڈا پڑا ہوا ہے جس سے ناراض امیدوار لگاتار مظاہرہ کر رہے ہیں۔
امیدواروں کا الزام ہے کہ اس معاملے میں حکومت کچھ نہیں کررہی ہے۔ فی الحال یہ معاملہ عدالت میں زیرغور ہے۔ اس معاملے کو لے کر سال 2024 میں سپریم کورٹ میں پہلی سماعت ہوئی تھی۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے کسی طرح کی پہل نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ احتجاجی امیدواروں کا الزام ہے کہ مختلف اضلاع میں مظاہرہ کررہے امیدواروں کو ہاؤس اریسٹ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 6 سال سے ریزرو زمرہ کے امیدوار اس کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ بتادیں کہ ٹیچر بھرتی میں 19 ہزار سیٹوں پر ریزرویشن کا معاملہ ہے۔







