امریکہ اور ایران کے ساتھ جاری طویل کشیدگی کے بعد ایران نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کمرشل پروازوں کو پھر سے شروع کر دیا ہے۔ راجدھانی تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ہفتہ (25 اپریل) کو 2 ماہ بعد پہلی بار باقاعدہ پروازیں شروع کی گئیں۔ اسے جنگ کے بعد حالات معمول پر آنے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق تہران سے ابتدائی پروازیں ترکیہ کے استنبول، عمان کے مسقط اور سعودی عرب کے مدینہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہوئی ہے، جس کے بعد ایران نے آہستہ آہستہ اپنی فضائی حدود کھولنا شروع کی تھی۔ اب کمرشل پروازوں کی بحالی سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حالات دھیرے دھیرے استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق ہفتہ کی صبح استنبول کے لیے کم از کم 3 پروازیں روانہ ہوئیں۔
حالانکہ زمین پر حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے ہیں۔ معاشی اور توانائی شعبے میں اب بھی اس کے گہرے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود معاشی دباؤ برقرار ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے چند روز قبل ہی اپنی فضائی حدود (ایئر اسپیس) کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا تھا کہ اب ایران کے مشرقی حصے سے گزرنے والی بین الاقوامی پروازوں کو اجازت مل گئی ہے۔ جبکہ ہندوستان نے 2 روز قبل اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔







