نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال اور آسام سمیت 5 ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی دفتر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان نتائج کو جمہوریت کی طاقت اور عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں تقریباً 93 فیصد ووٹنگ اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ ہے، جبکہ آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کیرالہ میں بھی ووٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، خاص طور پر خواتین کی بڑی شرکت نے جمہوریت کی ایک روشن تصویر پیش کی ہے۔
وزیر اعظم نے انتخابی عمل میں شامل تمام افراد، الیکشن کمیشن، سکیورٹی فورسز اور دیگر عملے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن نے جمہوریت کی عظمت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی یہ مضبوطی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنے گی۔
نریندر مودی نے اپنی تقریر میں گنگا ندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ گنگا جی بہار سے بہتے ہوئے گنگا ساگر (مغربی بنگال) تک جاتی ہے اور اب مغربی بنگال میں جیت کے ساتھ گنگوتری (اتراکھنڈ) سے لے کر گنگا ساگر تک کمل کھل چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار اور اب مغربی بنگال میں بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت قائم ہے، جو گنگا کے کنارے آباد ریاستوں میں پارٹی کی مضبوط موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے اپنے 2013 کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ وارانسی میں نامزدگی داخل کرنے گئے تھے تو ان کے دل سے یہ الفاظ نکلے تھے کہ انہیں کسی نے نہیں بھیجا بلکہ ماں گنگا نے بلایا ہے۔ آج وہ محسوس کرتے ہیں کہ ماں گنگا کا آشیرواد مسلسل ان پر اور ان کی حکومت پر قائم ہے۔
وزیر اعظم نے آسام کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بی جے پی اور این ڈی اے اتحاد نے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی ہے، جو ریاست کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چائے باغان کے علاقوں میں ملنے والے غیر معمولی تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔
پڈوچیری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2021 میں پیش کیے گئے وژن پر عوام نے اعتماد ظاہر کیا اور گزشتہ 5 برسوں میں این ڈی اے حکومت نے پوری ایمانداری کے ساتھ اس وژن کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے نوجوانوں اور ماہی گیروں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے بہتر مستقبل کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔







