نیٹ 2026 کے پیپر لیک معاملے پر کانگریس نے مودی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امتحانی نظام کو ناکام قرار دیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے الگ الگ بیانات جاری کر کے حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ نیٹ اب امتحان نہیں بلکہ نیلامی بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی سوالات امتحان سے 42 گھنٹے پہلے واٹس ایپ پر فروخت کیے جا رہے تھے جبکہ 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ پورا سال سخت محنت کرتے رہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایک رات میں نوجوانوں کے مستقبل کو بازار میں نیلام کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 برس میں 89 پیپر لیک کے واقعات سامنے آئے اور 48 مرتبہ دوبارہ امتحانات کرانے پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نوجوانوں کے خوابوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت میں امتحانی نظام بدنظمی، بے اعتمادی اور افراتفری کی علامت بن گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹ کے کم از کم چار پیپر لیک ہو چکے ہیں جن میں 2016، 2021، 2024 اور 2026 شامل ہیں۔ کھڑگے نے راجستھان کے سیکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتحان سے پہلے ہاتھ سے لکھا ہوا ’گَیس پیپر‘ فروخت کیا جا رہا تھا جس کے 135 سوالات اصل امتحان سے میل کھاتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پیپر لیک مافیا کے خلاف کارروائی کے بجائے معاملے پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے۔







