نئی دہلی :مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ تیل کمپنیوں کو ہر ماہ پٹرول ‘ ڈیزل اور گھریلو پکوان گیس کی فروخت سے ہر ماہ 30,000 کروڑ روپئے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ اس طرح حکومت نے تیل کمپنیوں پر عائد ہونے والے معاشی دباؤ کا تذکرہ کیا ہے جس کے بعد آئندہ دنوں میں پٹرول ‘ ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کی اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ حالانکہ حکومت اور تیل مارکٹنگ کمپنیوں نے زادء از دو ماہ تک بین الاقوامی مارکٹ میں اضافی قیمتوں کے دباؤ کو خود برداشت کیا ہے تاہم خود حکومت میں یہ احساس بڑھنے لگا ہے کہ حکومت یہ بوجھ غیرمعینہ مدت کیلئے برداشت نہیں کرسکتی ۔
اس سوال پر کہ آیا حکومت فیول کی قیمتوں میں اضافہ پر غور کر رہی ہے جوائنٹ سکریٹری وزارت پٹرولیم سجاتا شرما نے راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ تاحال اس بات پر توجہ دی گئی تھی کہ قیمتوں میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جاپان ‘ اسپین اور فرانس جیسے ممالک نے مشرق وسطی میں جنگ کے آغاز کے بعد سے با تک قیمتوں میں 30 تا 35 فیصد کا اضافہ کردیا ہے تاہم ہندوستان نے قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے ۔ ہندوستانی ریفائنرس کیلئے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔
فبروری میں 69 ڈالرس فی بیاریل قیمت تھی جو گذشتہ مہینے بڑھ کر 114.4 ڈالرس فی بیاریل تک جا پہونچی تھی ۔ ماہ مئی کے دوران بھی خام تیل کی قیمتیں فی بیاریل 105 ڈالرس کے آس پاس ہی درج کی جا رہی ہیں۔







