نئی دہلی: جامعہ ہمدرد نے ڈوپنگ سائنس کے شعبے میں تحقیق، تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے نیشنل ڈوپ ٹیسٹنگ لیبارٹری، نئی دہلی کے ساتھ ایک اہم مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد اینٹی ڈوپنگ سائنس کے مختلف شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور سائنسی تعاون کو مضبوط بنانا ہے تاکہ قومی اور عالمی سطح کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
اس مفاہمت نامے کے تحت اینٹی ڈوپنگ تحقیق، حوالہ جاتی مواد کی تیاری، جدید تجزیاتی طریقوں کی ترقی، جین ڈوپنگ کی شناخت کے طریقوں اور صلاحیت سازی جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ کام کیا جائے گا۔ دونوں اداروں کا ماننا ہے کہ اس اشتراک سے ڈوپنگ سائنس کے میدان میں نئی تحقیق کے دروازے کھلیں گے اور تربیت یافتہ ماہرین کی تیاری میں مدد ملے گی۔
دستخط کی تقریب کی میزبانی نیشنل ڈوپ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پی ایل ساہو نے کی۔ اس موقع پر لیبارٹری کے سائنسی اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔ جامعہ ہمدرد کے وفد کی قیادت اعزازی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ایم افشار عالم نے کی۔ وفد میں تحقیق و ترقی سیل کے ڈائریکٹر پروفیسر شاکر علی، ڈین اکیڈمکس پروفیسر سہیل پرویز، قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر سرفراز احسن اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد خان بھی شامل تھے۔
تقریب کے بعد جامعہ ہمدرد کے وفد نے نیشنل ڈوپ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی مختلف سہولیات کا دورہ بھی کیا۔ اس دوران وفد کو لیبارٹری کے جدید تجزیاتی ڈھانچے اور کھیلوں میں صاف ستھرے مقابلوں کو فروغ دینے کے حوالے سے اس کے کردار سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ نیشنل ڈوپ ٹیسٹنگ لیبارٹری دنیا کی تیس تسلیم شدہ ڈوپ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں میں شامل ہے اور ہندوستان میں اینٹی ڈوپنگ جانچ اور تحقیق کے میدان میں ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر پی ایل ساہو نے اس موقع پر کہا کہ یہ مفاہمت نامہ طلبہ اور نوجوان محققین کے لیے اینٹی ڈوپنگ سائنس کے خصوصی شعبے میں تربیت اور عملی تجربے کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس اشتراک سے تربیت یافتہ سائنس گریجویٹس، محققین اور ماہرین کی ایسی نئی نسل تیار ہو سکے گی جو کھیلوں میں شفافیت اور دیانت داری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔







