واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متعدد ایرانی ڈرون مار گرائے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ یک طرفہ حملہ آور ڈرون آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے بھیجے گئے تھے، تاہم امریکی افواج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں راستے ہی میں تباہ کر دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے اور وہاں بحری آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ بیان کے مطابق ڈرونز کو مار گرانے کی کارروائی کے بعد بھی جہاز رانی پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑا اور تجارتی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون تجارتی بحری ٹریفک کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے تھے، اسی لیے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی فوج نے کئی ایرانی ڈرون مار گرائے، جنہیں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہندوستانی جہازوں کو بھی ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے اس مبینہ اقدام کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہیے۔
تاہم تاحال ہندوستان یا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب کسی ہندوستانی پرچم بردار جہاز پر ڈرون حملے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان بھی جاری نہیں کیا، جس کے باعث ٹرمپ کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ ہندوستان نے عمان کی خلیج میں ہندوستانی عملے والے تجارتی جہازوں کے خلاف امریکی کارروائیوں پر شدید اعتراض درج کرایا ہے۔ ایک حملے میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد نئی دہلی نے امریکی سفارتی نمائندے کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار کی جاتی ہے اور عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایسے میں اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور علاقائی استحکام کے لیے تشویش کا باعث سمجھی جاتی ہے۔ امریکی دعووں اور ایران پر لگائے گئے الزامات کے بعد خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
