نئی دہلی : اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں واقع معروف تھانے والی مسجد کی زمین کی ملکیت پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ۔ انتظامیہ کا دعویٰ کہ مسجد پولیس تھانے کی زمین پر قائم ہے، جبکہ مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ زمین وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور تمام ضروری دستاویزات حکام کے حوالے کی جا چکی ہیں۔یہ معاملہ خرخودہ پولیس تھانے کے احاطہ میں واقع جامع مسجد سے متعلق ہے، جو مقامی سطح پر تھانے والی مسجد کے نام سے جانی جاتی ہے۔ کئی دہائیوں سے موجود یہ مسجد علاقہ کی اہم مذہبی اور تاریخی شناخت سمجھی جاتی ہے۔پولیس حکام کے مطابق محکمہ مال سے حال میں کرائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ مسجد جس زمین پر قائم ہے وہ پولیس تھانے کی اراضی کا حصہ ہے۔
سروے رپورٹ کے بعد مسجد کے امام عبدالغفار سے زمین کی ملکیت ثابت کرنے دستاویزات طلب کی گئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام تک ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جسے انتظامیہ قابل قبول قرار دے سکے۔سرکل افسر پرمود کمار سنگھ نے بتایا کہ محکمہ مال کی رپورٹ میں متنازعہ زمین کو پولیس تھانے کی ملکیت قرار دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی عمل کے تحت امام عبدالغفار کو سات دن کا نوٹس جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ متعلقہ دستاویزات پیش کریں اور مبینہ غیر مجاز تعمیر کے بارے میں وضاحت دیں۔خرخودہ تھانے کے انچارج راجپال سنگھ کے مطابق نوٹس 13 جون کو جاری کیا گیا اور جواب کیلئے سات دن کی مہلت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا جبکہ آئندہ کارروائی جمع ریکارڈ اور اس کی جانچ کے بعد کی جائے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کھسرا نمبر 1217 کے تحت تقریباً 6450 مربع میٹر زمین طویل عرصہ سے محکمہ پولیس کے نام درج ہے۔
انتظامیہ کا الزام ہے کہ بعد میں اسی زمین کے ایک حصے پر مسجد تعمیر کی گئی۔ مسجد انتظامیہ نے تجاوزات کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ امام عبدالغفار کا کہنا ہے کہ متعلقہ زمین 1985 میں وقف بورڈ کے نام درج کی گئی تھی اور اس حوالے سے تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں۔ مسجد کے متولی ایوب سیفی نے بھی انتظامیہ کے نوٹس پر اعتراض کرکے دعویٰ کیا کہ جامع مسجد نئی تعمیر نہیں بلکہ 200 سال سے زیادہ قدیم تاریخی مسجد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی اس وقت وہاں کوئی پولیس اسٹیشن موجود نہیں تھا۔ ان کے بقول مسجد کی تاریخی حیثیت اور ملکیت سے متعلق تمام حقائق متعلقہ دستاویزات میں درج ہیں۔
