لندن۔ لندن کی ٹرین میں ساتھی مسافر کے خلاف خاتون کی نسل پرستانہ برہمی نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ لندن سے مانچسٹر جانے والی اونتی ویسٹ کوسٹ ٹرین میں پیش آیا۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون ٹرین میں ساتھی مسلم مسافر کے خلاف نسل پرستانہ ریمارک کرتی ہے اور کہتی ہے کہ’’ اپنے ملک مراقش یا تیونس واپس چلے جاؤ‘۔مسلم شخص نے جواب دیا کہ وہ برٹش ہے اور نیشنل ہیلت سرویس بحیثیت ڈاکٹر خدمات انجام دیتا ہے۔مسلم شخص سے خاتون سے پوچھا کہ وہ برٹش ہے جس پر اس نے کوئی جواب نہیں دیابلکہ سیکوریٹی کو رپورٹ کرنے کی دھمکی دی ۔
برطانیہ میں پیدا ہوئے ڈینٹسٹ ( ڈاکٹر) نے کہا کہ میں یہیں پیدا ہوا، کیا آپ یہاں پیدا ہوئیں؟ تو خاتون نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس نے تصدیق کی کہ اسے پیر کی صبح ایسٹن سے مانچسٹر جانے والی ٹرین میں نسلی بدسلوکی کے بارے میں ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ پولیس نے اس خاتون کو گرفتار کرلیا ہے جس پر نسل پرستی کے الزامات لگتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق وہ خاتون برطانیہ کی شہریت نہیں رکھتی تھی جس کو ڈیپورٹ کردیا گیا۔واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث کو جنم دیا ہے۔سوشیل میڈیا پر کئی صارفین نے خاتون سے متعلق کئی ریمارکس کئے ہیں ۔







