نئی دہلی: ہندوستان میں فلسطین کے سفیر عبداللہ ایم ابو شاوِش نے غزہ کے بحران اور اسرائیلی قبضہ کے معاملہ پر عالمی برادری سے بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں امن کی امید اسی وقت حقیقت بن سکتی ہے جب عالمی برادری متحد ہو کر امن عمل کو عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے۔
آئی اے این ایس سے گفتگو میں فلسطینی سفیر نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ صورت حال کو محض ’تنازعہ‘ قرار دینا کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اسرائیلی قبضہ اور طویل عرصہ سے جاری بحران سے جڑا ہوا ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس کی سنگینی کو اسی تناظر میں سمجھنا ہوگا۔
ابو شاوِش نے کہا کہ سفارتی اور پرامن حل کی امید ہمیشہ موجود رہتی ہے، لیکن یہ امید اس وقت تک محض نظریاتی رہے گی جب تک عالمی برادری اسے عملی سطح پر نافذ کرنے کے لیے حقیقی اقدامات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت صرف امن عمل کا ذکر کرنے کی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے عملی کارروائی کی ہے۔
اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے فلسطینی سفیر نے کہا کہ وہ طویل عرصے تک اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، لیکن موجودہ نظام میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا زمینی اثر محدود دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ 193 ممالک کی اجتماعی کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس کی مؤثریت متاثر ہوتی ہے۔
نئی دہلی: ہندوستان میں فلسطین کے سفیر عبداللہ ایم ابو شاوِش نے غزہ کے بحران اور اسرائیلی قبضہ کے معاملہ پر عالمی برادری سے بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں امن کی امید اسی وقت حقیقت بن سکتی ہے جب عالمی برادری متحد ہو کر امن عمل کو عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے۔
آئی اے این ایس سے گفتگو میں فلسطینی سفیر نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ صورت حال کو محض ’تنازعہ‘ قرار دینا کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اسرائیلی قبضہ اور طویل عرصہ سے جاری بحران سے جڑا ہوا ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس کی سنگینی کو اسی تناظر میں سمجھنا ہوگا۔
ابو شاوِش نے کہا کہ سفارتی اور پرامن حل کی امید ہمیشہ موجود رہتی ہے، لیکن یہ امید اس وقت تک محض نظریاتی رہے گی جب تک عالمی برادری اسے عملی سطح پر نافذ کرنے کے لیے حقیقی اقدامات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت صرف امن عمل کا ذکر کرنے کی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے عملی کارروائی کی ہے۔
اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے فلسطینی سفیر نے کہا کہ وہ طویل عرصے تک اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، لیکن موجودہ نظام میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا زمینی اثر محدود دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ 193 ممالک کی اجتماعی کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس کی مؤثریت متاثر ہوتی ہے۔







