نئی دہلی: دو ہزار سے زائد شہریوں، جن میں ماہرین تعلیم، وکلا، سابق سرکاری افسران، کارکنان، صحافی اور ریٹائرڈ فوجی افسران شامل ہیں، نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کو کھلا خط لکھ کر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پر فوری روک لگانے اور کمیشن کے کام کاج کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کھلے خط میں سپریم کورٹ سے الیکشن کمیشن کی انتظامی اور قانونی بے ضابطگیوں کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ خط میں ایس آئی آر کی کارروائی کو فوری طور پر روکنے اور منسوخ کرنے، الیکشن کمیشن کے کام کاج کی آزادانہ تحقیقات اور اس کے مرکزی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ’ای سی آئی نیٹ‘ کا جامع آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط کے مطابق دستخط کنندگان نے الیکشن کمیشن کے تین رکنی ڈھانچے میں اختلافات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے تقریباً 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراض کیا۔ یہ دعویٰ حالیہ میڈیا رپورٹوں میں سامنے آنے والی معلومات پر مبنی ہے۔
دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت کثیر رکنی الیکشن کمیشن میں فیصلے اجتماعی طور پر ہونے چاہئیں۔ خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دور میں بعض انتظامی ہدایات اور سافٹ ویئر میں تبدیلیاں دیگر کمشنروں کی رضامندی کے بغیر نافذ کی گئیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر سمیت اس کے تمام فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے متفقہ طور پر لیے گئے ہیں۔







