نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر لگاتار دوسرے دن بھی احتجاجیوں اور پولیس کے مابین آنکھ مچولی جاری رہی ۔ جہاں سینکروں احتجاجیوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا منظم کرنے کی کوشش کی وہیں پولیس کی جانب سے بھاری رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں کئی مقامات پر روکا گیا اور سینکڑوں کارکنوں کو دوسرے دن بھی حراست میں لیا گیا ۔ 2 اکٹوبر کو دن بھر دھرنے اور رکاوٹ کے بعد آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا نے کل دوپہر ایک بجے دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا ۔ دوپہر سے قبل سے ہی احتجاجی مختلف مقامات سے جنتر منتر پہونچنے لگے ۔ خود نیہا بورا بھی وہاں پہونچ گئیں اور گیانیش کمار کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ احتجاج کیلئے پہونچنے والی اہم شخصیتوں میں رکن راجیہ سبھا سبل ‘ سینئر وکیل پرشانت بھوشن ‘ سیاسی جہد کار یوگیندر یادو اور دوسرے شامل تھے ۔
نیہا بورا اور دوسرے احتجاجی کئی مواقع پر رکاوٹوں کو توڑنے یا پھلانگنے کی کوشش کرتے دیکھے گئے ۔ ایک موقع پر نیہا بورا پولیس بیریکیڈ پر چڑھ گئیں۔ نیہا کو پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ نیہا نے اس موقع پر الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ دست درازی کی گئی ۔ انہوں نے دہلی پولیس کی خاتون ملازمین کی جانب سے نازیبا حرکتوں کا الزام عائد کیا اور دہلی پولیس ‘ سی آر پی ایف اور دوسروں کے خلاف نعرے لگائے ۔ انہوں نے پولیس عملہ سے کہا کہ وہ اپنی وردی اتار دیں اور آر ایس ایس کی نیکر ( چڈی ) پہن لیں۔ رکن راجیہ سبھا کپل سبل نے کہا کہ آج وقت آگیا ہے کہ ملک کے عوام پرامن احتجاج کیلئے سڑکوں پر اتر آئیں ۔ ان کے حق رائے دہی کا سوال ہے اور ملک کی جمہوریت کو بچانے کا سوال ہے ۔ احتجاج کے کئی ویڈیوز بھی سامنے آئے جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس کی جانب سے احتجاجیوں کو حراست میں لینے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ کئی لڑکیوں اور معمر افراد کو بھی ڈھکیلنے کی کوشش کی گئی تھی ۔







