تہران ۔ ایران نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ امریکی فوجی جہازوں کو ’’کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت‘‘ خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ’’یہ خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے‘‘۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایران پر دوبارہ حملوں سے متعلق امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیاں بڑھ رہی ہیں۔ ترکی میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن اس ہفتے کے اختتام تک ایران پر ’’یقینی طور پر‘‘ حملہ کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ایران جنگ اپنے آٹھویں ماہ میں داخل ہو رہی ہے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ فلوریڈا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک اور چھوٹا سا ’ایپک فیوری‘ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی اور نہ ہی ممکنہ کارروائی کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم کی۔
ادھر ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت امریکی فوجی جہازوں کو خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر یہ خواب دیکھتے رہیں کہ ان کی مسلح افواج خلیج فارس میں داخل ہوں گی، لیکن وہ یہ خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ 28 فروری کو امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانی افواج آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو محدود کیے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ اور خلیج فارس کا مرکزی داخلی دروازہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے خلاف جوابی ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔ تہران نے تمام بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے قبل اجازت لینا لازمی قرار دیا ہے اور عمانی ساحل کے قریب جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی آئل ٹینکر، جو تہران کے نزدیک ’’غیر قانونی‘‘ سمجھے جانے والے راستے کے ذریعہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے، بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔







