خلیج بنگال میں اٹھنے والا سمندری طوفان ’ارنب‘ تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے اور اس کے 28 اکتوبر کو آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، طوفان کے دوران ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ہوا کے شدید جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتے ہیں۔ طوفان کے خطرے کے پیش نظر آندھرا پردیش اور جنوبی اوڈیشہ کے ساحلی علاقوں میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے احتیاط برتنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، 26 اکتوبر کی صبح 5:30 بجے طوفان خلیج بنگال کے وسطی اور مغربی حصے کے قریب موجود تھا۔ اس وقت یہ وشاکھاپٹنم سے تقریباً 650 کلومیٹر اور اوڈیشہ کے گوپال پور سے 610 کلومیٹر دور تھا۔
موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق، سمندری طوفان ’ارنب‘ 26 اکتوبر کی نصف شب تک شدید سمندری طوفان اور 27 اکتوبر کو انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد طوفان شمال مغربی سمت میں آگے بڑھے گا۔ امکان ہے کہ 28 اکتوبر کی صبح یہ آندھرا پردیش اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کے یانم کے ساحل کے قریب باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان ٹکرائے گا۔
طوفان کے باعث آندھرا پردیش کے شمالی اور وسطی ساحلی اضلاع میں شدید سے انتہائی شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ جنوبی اوڈیشہ کے کئی علاقوں میں بھی تیز بارش ہو سکتی ہے۔ حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور سمندر کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، آندھرا پردیش کے محکمہ آفاتِ سماوی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے تقریباً 5.7 لاکھ افراد کی نشاندہی کی ہے، جنہیں طوفان سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ریاستی حکومت نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ قومی آفاتِ انتظامیہ اور متعلقہ محکمے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کو راحت اور بچاؤ کے کاموں کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ فوج، بحریہ، فضائیہ اور ساحلی محافظ دستے بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔







