نینی تال ہائی کورٹ نے بغیر مدرسہ بورڈ کی اجازت کے چلنے والے مدارس کو اپنے نام کے ساتھ ’مدرسہ‘ کا لفظ استعمال نہ کرنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ سینئر جج جسٹس منوج کمار تیواری کی سنگل بنچ نے مدارس کی طرف سے داخل تقریباً تین درجن سے زائد عرضیوں کی سماعت کے بعد دیا۔ یہ عرضیاں اس حوالے سے دائر کی گئی تھیں کہ انتظامیہ نے بغیر رجسٹریشن اور ناجائز طریقے سے چلنے والے مدارس کو نوٹس دے کر سیل کرنے کی کارروائی کی تھی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی مدرسہ بورڈ کی منظوری کے بغیر اپنے نام کے ساتھ ’مدرسہ‘ کا لفظ لکھتا ہے تو ضلع انتظامیہ اس کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ جو مدارس پہلے ہی سیل کیے جا چکے ہیں، ان کے منتظمین کو ایک حلف نامہ دینا ہوگا جس میں وہ یقین دہانی کریں کہ متعلقہ مدرسہ میں تعلیمی کام نہیں کریں گے۔ اس بات کا حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کرے گی کہ ان مدارس کو کب اور کیسے دوبارہ کھولا جائے گا۔
سماعت کے دوران مدارس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ مدرسہ بورڈ میں رجسٹریشن کی درخواست دے چکے ہیں اور منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم، ریاستی حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ابھی تک صرف 416 مدارس بورڈ میں رجسٹرڈ ہیں، اور جو مدارس سیل کیے گئے ہیں وہ بغیر اجازت کے چل رہے تھے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ سیل کیے گئے مدارس میں متعدد بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں۔
عدالت نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سیل کیے گئے مدارس کو کھولا جائے لیکن اگر وہ اپنے نام کے ساتھ ’مدرسہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو سیل کرنے والے افسر اصول و ضوابط کے مطابق کارروائی کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ مدرسہ ابو بکر صدیق، مدرسہ جنت القرآن، مدرسہ دارالاسلامیہ سمیت تقریباً تین درجن مدارس نے اپریل 2025 میں سیل کرنے کی کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے عرضی دائر کی تھی کہ ان مدارس میں تعلیمی امور جاری تھے۔ حکومت کی جانب سے جواب دیا گیا کہ یہ مدارس ناجائز طریقے سے چل رہے تھے اور تعلیمی، مذہبی و نماز کے امور بھی ہو رہے تھے۔ رجسٹرڈ مدارس کو سیل نہیں کیا گیا اور انہیں گرانٹ بھی مل رہی ہے۔
read more….qaumiawaz .com






