مدھیہ پردیش کے اندور میں 19 ستمبر کی شام ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام نے طلبا سے متعلق کئی اہم مسائل سے پردہ اٹھایا۔ طلبا سے بات کرتے ہوئے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوال پوچھنے کی عادت، تعلیمی نظام، بے روزگاری، پیپر لیک، بھرتی اور ملک کے مختلف اداروں کے کام کاج پر اپنی بات انتہائی بے باکانہ انداز میں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سسٹم کو اسٹوڈنٹ نہیں، اندھ بھکت چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’طالب علم متجسس ہوتا ہے، وہ سوال کرتا ہے، وجہ جاننا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ سسٹم سے جواب مانگتا ہے۔
راہل گاندھی ’بھارت جوڑو میدان‘ میں جمع ہزاروں طلبا و نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم کسی بات کو صرف اس لیے قبول نہیں کرتا کہ اسے اوپر سے ایسا بتا دیا گیا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ کسی شخص کو کسی بڑے ادارے کی ذمہ داری کیسے مل گئی۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے کا ذکر کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کیسے بنے۔ راہل گاندھی نے اسے میرٹ اور اہلیت کے سوال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ طلبا کو ایسے معاملات پر سوال پوچھنے چاہئیں۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ملک کے بڑے کاروبار، عدلیہ، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کا بھی ذکر آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبا یہ پوچھتے ہیں کہ ادارے اپنا کام صحیح طریقے سے کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ یہی سوال کرنے کی عادت طالب علم کو دوسروں سے الگ بناتی ہے۔ وہ کسی بات کو آنکھیں بند کر کے ماننے کے بجائے اس کے پیچھے کی وجہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے طالب علم اور ’اندھ بھکت‘ کے درمیان فرق سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’’طالب علم کے اندر تجسس ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی بات سنتا ہے، اپنی رائے رکھتا ہے، ضرورت پڑنے پر سوال کرتا ہے اور نئی معلومات ملنے پر اپنی سوچ پر بھی غور کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ’اندھ بھکت‘ سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔‘‘ اس دوران انھوں نے نفرت، تکبر اور خوف کا بھی ذکر کیا، اور خواتین کے احترام کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’طالب علم خواتین کی عزت کرتا ہے، جبکہ اندھ بھکت والی سوچ خواتین کی بے حرمتی تک پہنچ سکتی ہے۔







