دبئی میں پیر کو عالی الصبح اس وقت افراتفری مچ گئی جب دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرایک ڈرون گرنے کے بعد زوردار دھماکہ ہوا اور ایندھن کے ٹینک میں زبردست آگ لگ گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں شعلے اور دھواں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ دبئی میڈیا آفس نے کہا ہے کہ ایئرپورٹ کے قریب ڈرون کے واقعے سے فیول ٹینک متاثر ہوا۔ اگرچہ ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن اس واقعے نے ایران-امریکہ جنگ کے خطرے کو براہ راست دبئی کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات کے سناٹے میں زور دار دھماکوں کی ‘آوازیں سنائی دیں۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ہوائی اڈے کے قریب دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے۔ دبئی سول ڈیفنس اور دیگر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور آگ بجھانے کا کام شروع کردیا۔ دبئی میڈیا آفس نے ’ایکس‘ پر بتایا کہ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اگرچہ نقصان بہت زیادہ دکھائی دے رہا ہے، تاہم جانی نقصان نہ ہونے سے حکام نے راحت کی سانس لی ہے۔
ڈرون حملے سے فضائی ٹریفک پر بھی بھاری اثر پڑا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے مطابق دبئی آنے والی کئی پروازوں کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ کراچی، کھٹمنڈو، ہنوئی، اسمارہ اور عمان سے دبئی پہنچنے والی کم از کم 5 پروازیں ہوائی اڈے پر اترنے کا انتظار کرتی رہیں۔ اس وجہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مرکزی ہوائی اڈے پر بھی حملہ ہوا ہو گا۔ حالانکہ ممکن ہے کہ ڈرونز سے بچانے کے لیے طیاروں کو نہ اترنے دیا جارہا ہو۔







