ایس آئی آر سے متعلق ایک معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ یہ خبر کئی اخبارات میں شائع ہوئی ہے، جن میں سے ایک خبر کا تراشہ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کر کہا ہے کہ ’’سطح در سطح گیانیش کمار کےس یاہ کارنامے سامنے آ رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی اپوزیشن پارٹی نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے سب سے پہلے بامبے ہائی کورٹ کا ایک تبصرہ پیش کیا ہے، جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کی خوب کلاس لگائی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ’’سارے قانون بھول جاؤ اور صرف سافٹ ویئر کے پیچھے بھاگو۔‘‘ کانگریس نے مطلع کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کی دھاندلی سے گوا میں گڑبڑی کی تھی، جس کے خلاف لوگ ہائی کورٹ پہنچے، وہیں الیکشن کمیشن کو عدالت سے یہ پھٹکار لگی۔
کانگریس نے بتایا کہ عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ایس آئی آر نے حقیقی معنوں میں پورے سسٹم کو سسپنڈ کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ سارے قوانین کو بھول جاؤ اور صرف سافٹ ویئر کو مانو، لیکن ایسا بالکل نہیں چل سکتا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ’’ہمیں قانون دکھائیں کہ بغیر سماعت کے نام ہٹانے کا اختیار الیکشن کمیشن کو کس نے دیا؟‘‘ بامبے ہائی کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی ووٹر نہ چھوٹے، لیکن 6 لوگ عدالت پہنچ گئے ہیں اور معلوم نہیں مزید کتنے ہیں جو عدالت نہیں پہنچ سکے۔






