تہران : مشرق وسطی میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب ‘ ترکیہ اور پاکستان کے اعلی دفاعی عہدیداروں نے ایران کا دورہ کیا اور ایران کی سپریم سلامتی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی ۔ مکہ معاہدہ کے قائدین نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے ۔
ایرانی قائدین سے ملاقات کرنے والے وفد میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ‘ترکیہ کی انٹلی جنس کے سربراہ ابراہیم کلیم اور پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل تھے ۔ سرکاری ایرانی میڈیا نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان گھسمان کی لڑائی کے دوران یہ ملاقات ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ بات چیت میں علاقائی سلامتی ‘ فوجی جارحیت کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی تائید پر توجہ مرکوز رہی ۔ کہا گیا ہے کہ یمن میں جنگ اور ایرانی تائید والے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں پر بھی بات چیت ہوئی ۔ دو علاقائی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی ۔
قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے اطلاع دی تھی کہ بات چیت کا کوئی طئے شدہ ایجنڈہ نہیں ہے تاہم اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ آج بات چیت کے دوران ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران ایسے کسی بھی معاہدہ کی تائید کریگا جس سے علاقائی تعاون میں اضافہ ہو اور اختلافات کو دور کیا جاسکے ۔
