فرانس کی اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیرس بہت جلد ایک ’مسلم شہر‘ بن جائے گا۔ اس بیان کے بعد فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون برہم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشیدہ سماجی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میکرون نے تشدد معاملہ سے متعلق ہو رہے تبصروں کو لے کر بدھ کے روز غیر ملکی لیڈران کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کے کئی شہروں میں ہوئی لوٹ مار کے بعد اطلاعات کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ میکرون نے کہا کہ اسی وجہ سے کئی لوگوں، جن میں غیر ملکی لیڈران بھی شامل ہیں، ان کی جانب سے بیانات دیے گئے ہیں۔ کچھ بیانات نہ صرف احمقانہ ہیں، بلکہ مکمل طور پر ناقابل قبول بھی ہیں۔ جب ایک صحافی نے میکرون سے پوچھا کہ کیا ان کا اشارہ ٹرمپ کی جانب ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کی جانب بھی ہے۔
میکرون نے مہاجرین اور اسلام پسندوں کی جانب سے فرانس پر حملوں کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ میکرون نے مزید کہا کہ اے آئی سے بنی تصاویر ایسی دکھائی جا رہی ہیں، جس میں ایسے مناظر ہیں، جو حقیقت میں فرانس میں کبھی نہیں ہوئے تھے۔ کچھ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فرانس پر مہاجرین اور اسلام پسندوں نے حملہ کر دیا ہے، جو مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط ہے۔
