کولکاتہ :مغربی بنگال میں بی جے پی کی سوویندو ادھیکاری حکومت نے ریاستی کابینہ کے اجلاس میں کئی اہم فیصلے کئے ۔ ان میں ایک اہم فیصلہ مذہبی بنیادوں پر سرکاری امداد روک دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت اب آئمہ و موذنین کے علاوہ مندروں کے پروہتوں کو کوئی ماہانہ اعزازیہ نہیں دیا جائے گا ۔ حکومت نے کہا کہ ماہ جون سے اس اعزازیہ روک دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات کی موجودہ فہرست کو بھی برخواست کردینے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ کلکتہ ہائیکورٹ کے حکمنامہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے ۔ کوٹہ کی اہلیت کا تعین کرنے کیلئے ایک نیا پیانل تشکیل دیا جائے گا ۔
ریاستی وزیر اگنی مترا پال نے کہا کہ مذہبی زمرہ بندی کے تحت محکمہ اطلاعات و کلچرل امور اور محکمہ اقلیتی بہبود اور مدرسہ ایجوکیشن کی جانب سے جو اسکیمات نافذ کی جا رہی تھیں انہیں جاریہ ماہ کے ختم سے برخواست کردیا جائے گا ۔ ماہ جون سے امدادی رقم جاری نہیں کی جائے گی ۔ اس سلسلہ میں علیحدہ طور پر اعلامیہ جاری کردیا جائے گا ۔ کہا جا رہا ہے کہ پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے ان اسکیمات کا سلسلہ روک دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ فلاح و بہبود کے پروگرامس مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہئیں۔
سابقہ ترنمول کانگریس حکومت نے آئمہ و موذنین کے علاوہ مندروں کے پجاریوں کیلئے ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم شروع کی تھی ۔ ترنمول کے اقتدار پر آنے کے ایک سال بعد سے ان اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی تھی ۔بنگال میں یہ اسکیم 2012 سے نافذ تھی اور حکومت نے ہر ماہ ریاست بھر میں آئمہ کیلئے 2500 روپئے اعزازیہ کا اعلان کیا تھا ۔ معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے آئمہ کو یہ مدد فراہم کی جاتی تھی ۔ اس کے بعد موذنین کیلئے بھی اعزازیہ شرع کیا گیا تھا ۔ ان دونوں کیلئے فنڈز اقلیتی بہبود کے محکمہ سے جاری کئے جاتے تھے ۔ 2020 میں ریاستی حکومت نے اسی طرح کے اعزازیہ کی اسکیم مندروں کے پجاریوں اورپروہتوں کیلئے بھی شروع کی گئی تھی ۔ ریاستی کابینہ ممتابنرجی حکومت میں فنڈز کی تقسیم میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔







