دہلی کے ستیہ نکیتن علاقہ میں پی جی عمارت گرنے کے بعد راجدھانی میں چل رہے ’پیئنگ گیسٹ‘ یعنی پی جی کے انتظامات پر بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ اس حادثہ کے بعد اعلیٰ سطح پر تحقیقات اور سروے کا دور شروع ہو گیا ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے تازہ سروے کے مطابق راجدھانی کے 12 زون میں 2,453 پی جی عمارتیں چل رہی ہیں۔ ان میں 32,247 کمرے ہیں اور تقریباً 50,529 لوگ مقیم ہیں۔ لیکن ان عمارتوں کی قانونی حیثیت اور ضابطوں کی پابندی کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہے۔
ایم سی ڈی نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ 2,453 پی جی عمارتوں میں سے صرف 512 عمارتیں ماسٹر پلان کے مطابق چل رہی ہیں۔ وہیں، صرف 730 عمارتوں کے منظور شدہ بلڈنگ پلان دستیاب ہونے یا ان کی تصدیق ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس لیے فی الحال 1,723 عمارتوں کو براہ راست غیر قانونی پی جی کہنا درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان 1,723 عمارتوں میں سے کتنی کے نقشے بعد میں ملتے ہیں اور کتنی میں حقیقی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں۔
ایم سی ڈی کے سروے میں 2,342 پی جی عمارتیں دیکھنے میں محفوظ پائی گئیں۔ 91 عمارتوں میں معمولی مرمت، جب کہ 30 میں بڑی مرمت کی ضرورت بتائی گئی۔ 4 عمارتوں کو خطرناک حالت میں پایا گیا۔ اس کے علاوہ 8 عمارتیں، جن میں زمین کے اوپر 3 سے زیادہ منزلیں تھیں، اور 77 عمارتیں، جن میں زمین کے اوپر 4 سے زیادہ منزلیں تھیں، ممکنہ خطرے کے پیش نظر نشان زد کی گئیں۔
قابل ذکر ہے کہ 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں پی جی عمارت گرنے سے 7 لوگوں کی موت کے بعد ایم سی ڈی نے کارروائی تیز کر دی۔ 6 سے 23 ستمبر کے درمیان کارپوریشن نے 543 جائیدادوں کو منہدم کیا، 178 کو سیل کیا اور غیر مجاز تعمیرات کے سلسلے میں 354 وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے۔ اس کے علاوہ سیل کرنے سے متعلق 205 وجہ بتاؤ نوٹس اور انہدام کے 98 احکامات بھی جاری کیے گئے۔ تاہم ہائی کورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ اعداد و شمار عام کارروائی سے متعلق ہیں۔ انہیں براہ راست پی جی کے خلاف کی گئی کارروائی نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے افسران سے پی جی عمارتوں کی الگ اور واضح شناخت کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کا حساب پیش کرنے کو کہا ہے۔
