کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آج تمل ناڈو میں نیٹ سے متعلق خودکشی کرنے والے طلبا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’اپنے بچوں کو کھونے والے والدین کے آنسو اور ان کی سسکیاں، اس سے بڑا کوئی غم نہیں۔ یہ غم ان کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کے ساتھ ہی اس ٹوٹے ہوئے اور بدعنوان تعلیمی نظام سے متعلق کئی سوالات بھی باقی رہ جائیں گے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’پیپر لیک، منسوخ امتحانات اور برسوں کی تیاری کا ایک لمحے میں برباد ہو جانا، یہ طلبا کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔ ہمارے طلبا سے ایسے نظام میں ایمانداری سے محنت کرنے کو کہا جاتا ہے جو خود بے ایمان ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ نظامِ امتحان کی ناکامیوں، پیپر لیک اور امتحانات کی منسوخی کی قیمت طلبا اور ان کے خاندانوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق طلبا برسوں تک اپنے مستقبل کے لیے تیاری کرتے ہیں، لیکن پیپر لیک یا امتحان کی منسوخی ان کی برسوں کی محنت کو ایک لمحے میں برباد کر دیتی ہے۔
راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ طلبا کو ’معاف‘ کرنے کے بیان پر بھی سخت سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سب کے بعد بھی وزیر اعظم میں یہ کہنے کی ہمت ہے کہ وہ طلبا کو’معاف‘ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ کیا وہ ایک بھی ایسے سوگوار خاندان سے ملے ہیں جنہوں نے اپنے بچے کو کھویا ہے؟‘‘ انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم ان لوگوں سے ملاقات کی ہے جن کی جمع پونجی، زندگی، وقت اور خواب، سب کچھ پیپر لیک کی وجہ سے چھین لیا گیا؟ سوال پوچھنے کے بعد وہ خود ہی لکھتے ہیں کہ ’’جواب ہے، نہیں۔
