Akhbarurdu Logo
  • Home
  • اردو خبریں
    • قومی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
X
  • Home
  • اردو خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
Akhbarurdu Logo
  • Urdu Dictionary
  • Naat Online
  • Hajj 2025
  • Regional Newspapers
Home اردو قومی خبریں

وقف ترمیمی قانون کے خلاف جماعت اسلامی ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر

پروفیسر سلیم انجینئر و دیگر ذمہ داران مولانا شفیع مدنی اور انعام الرحمن خان کے ذریعے داخل عرضی میں نئے ترمیمی قانون پرشدید تشویش کا اظہار

Akhbar Urdu by Akhbar Urdu
10 months ago
مرکزی تعلیمی بورڈ ، جماعت اسلامی ہند کا حکومت سے آر ٹی ای ترمیم پر نظرثانی کا مطالبہ

نئی دہلی :وقف ترمیمی قانون 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ یہ عرضی جماعت کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر و دیگر مرکزی ذمہ داران مولانا شفیع مدنی اور انعام الرحمن خان کے ذریعے داخل کی گئی ہے  عرضی میں نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات ، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسر خلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردار کو متاثر کرنے والی ہیں ۔ عرضی میں ہندوستانی آئین کی دفعہ 14، 15، 16، 25، 26 اور 300 اے کے خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انھیں ختم کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔

پٹیشن میں اٹھائے گئے اہم نکات:بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ:اس ترمیم شدہ ایکٹ نے وقف کی تعریف اور اس کی بنیادی ساخت کو بدل دیا ہے۔ وقف پر غیر ضروری پابندیاں لگا دی گئی ہیں کہ کون وقف کر سکتا ہے اور ان کا انتظام و انصرام کیسے کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اب وقف کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم سے کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار رہا ہے جبکہ اسلام میں وقف کنندہ کے لیے ایسی کوئی بھی شرط نہیں ہے۔ یہ غیر ضروری شرط براہ راست آرٹیکل 25 اور 15 کے خلاف ہے جس میں مذہبی آزادی اور امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔

وقف بورڈ کی خود مختاری پر حملہ:اس نئے قانون کے ذریعے وقف بورڈ میں منتخب افراد کی جگہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عہدیداروں کو شامل کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے جن میں غیر مسلم اور وقف کے لیے مطلوبہ فقہی مسائل سے ناواقف افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ یہ قانون بنیادی طور پر ملک میں مختلف مذہبی طبقات کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے دیئے گئے حق کے خلاف ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس نئے قانون میں سی ای او کے لیے مسلمان ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے جس سے بورڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے شدید طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے ۔

وقف املاک پر ناجائز قبضہ جات کا مسئلہ: قانون کے سیکشن 3ڈی کو جلد بازی میں من مانے ڈھنگ سے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے محفوظ یادگار قرار دی گئیں تمام وقف شدہ ملکیتوں کو وقف بورڈ کے کنٹرول سے نکال کر اے ایس آئی کی ملکیت بنایا جا سکے چاہے ان مقامات کی تاریخی ومذہبی حیثیت و اہمیت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ یہ شق بنیادی طور پر قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے ایکٹ 1958 کے سیکشن 6 کو ختم کردیتی ہے جوکہ وقف املاک سے متعلق ہے ۔ مزید براں اس قانون کی وجہ سے تجاوزات کرنے والوں کو وقف اراضی پر منفی قبضہ کرنے کے لیے دعویٰ کرنے کا حق مل جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کے وقف املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

کمیونٹی کنسلٹیشن کی ناکامی: ترامیم کی حساسیت کے باوجود اس بل کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ۔ منصفانہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمانی کارروائی کے دوران سیکشن 3ڈی اور 3 ای جیسی تبدیلیاں آخری وقت میں شامل کی گئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مختلف مسلم تنظیموں بشمول جماعت اسلامی ہند نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اس قانون پر اپنے اعتراضات درج کرائے تھے مگر انہیں نظر انداز کردیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز اور وقف سے متعلق تنظیموں و افراد کی شمولیت کو نظر انداز کرکے قانون بنانا، مسلمہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

اضافی قانونی دلائل:وقف بائے یوزر کی شق کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ رام جنم بھومی بابری مسجد کیس و دیگر کئی سابقہ عدالتی فیصلوں میں یہ بات موجود ہے کہ استعمال اور تاریخی تسلسل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا جانا چاہئے ۔ لال شاہ بابا درگاہ، شیخ یوسف چاولہ اور رامجس فاؤنڈیشن کے فیصلوں میں بھی یہ کہا گیا کہ مذہبی اوقاف کو کمیونٹی کے استعمال اور تاریخی تسلسل کے حوالے سے پرکھا جانا چاہئے نہ کہ حکومتی رکارڈ کو بنیاد بنا کر۔

جماعت اسلامی ہند اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وقف، اسلامی عقیدے و تہذیب نیز ہندوستانی ورثے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے جس کا خیرات، تعلیم اور سماجی بہبود سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے مذہبی اور اجتماعی کردار کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہے۔ جماعت سول سوسائٹیز، قانونی ماہرین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وقف قانون کو من مانی طریقے پر ختم کرنے کے خلاف آواز بلند کریں اور اس آئینی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

Recent News

ممتا بنرجی کی ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی

ممتا بنرجی کی ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی

February 2, 2026
’امرت ادیان‘3فروری سے عام لوگوں کے لیے کھل جائے گا

’امرت ادیان‘3فروری سے عام لوگوں کے لیے کھل جائے گا

February 1, 2026
2026-27کے بجٹ میں ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کا ہدف

2026-27کے بجٹ میں ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کا ہدف

February 1, 2026
دہلی-این سی آر میں پھر موسم نے   لی کروٹ

دہلی-این سی آر میں پھر موسم نے لی کروٹ

February 1, 2026
عدالتوں میں الزامات طے کرنے میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہم

ماہواری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

January 31, 2026
ہماچل پردیش میں شدید برفباری

ہماچل پردیش میں شدید برفباری

January 30, 2026
Urdu News:
National قومی خبریں Arab عرب ممالک World عالمی خبریں Education تعلیم Jobs روزگار
Indian Newspapers:
اردو বাংলা অসমীয়া
Arab Media:
Algeria الجزائر Bahrain البحرين Comoros جزر القمر Djibouti جيبوتي Egypt مصر Iraq العراق Jordan الأردن Kuwait الكويت Lebanon لبنان Libya ليبيا Mauritania موريتانيا Morocco المغرب Oman عمان Palestine فلسطين Qatar قطر Saudi Arabia السعودية Somalia الصومال Sudan السودان Syria سوريا Tunisia تونس U.A.E الإمارات العربيّة المتّحدة Yemen اليمن
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Indian Newspapers
Arab Media
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Akhbar Urdu Logo
  • About Us
  • Advertising
  • Contact Us
  • Sitemap
  • Disclaimer
  • Privacy Policy

All trademarks, trade names, service marks, copyrighted work, logos referenced herein belong to their respective owners/companies. Any Query Please write us

©akhbarurdu.com, Indian Urdu Media Info website.

  • Home Icon Home
  • News Icon News
  • Newspapers Icon Newspapers
  • Naat Icon Naat
  • Dictionary Icon Dictionary
No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.