Akhbarurdu Logo
  • Home
  • اردو خبریں
    • قومی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
X
  • Home
  • اردو خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
Akhbarurdu Logo
  • Urdu Dictionary
  • Naat Online
  • Hajj 2025
  • Regional Newspapers
Home اردو قومی خبریں

افطار معاملہ میں سپریم کورٹ میں جسٹس اُجول بھوئیاں کاسخت تبصرہ

جسٹس اُجول بھوئیاں نے کہا کہ کوئی قانون گنگا ندی پر چکن بریانی کھانے سے نہیں روکتا

Akhbar Urdu by Akhbar Urdu
1 hour ago
افطار معاملہ میں سپریم کورٹ میں جسٹس اُجول بھوئیاں کاسخت تبصرہ

’’ہندوستان میں مختلف رائے رکھنے کے لیے عوامی مقامات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور انہیں ضمانت نہیں دی جا رہی ہے۔ جب انہیں ضمانت مل بھی جاتی ہے تو عدالتیں ایسی سخت شرائط عائد کرتی ہیں، جن سے ان کی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔‘‘ یہ باتیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اُجول بھوئیاں نے ہفتہ کے روز کہیں۔ انہوں نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی رائے کا اظہار کرنے اور پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا حق شہریوں کی بنیادی آزادی ہے۔ بحث اور اختلافِ رائے جمہوریت کی جان ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ معمول کی سرگرمیوں کو بھی جرم کے زمرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔

جسٹس اُجول بھوئیاں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر اپنے دکھ کا اظہار کرنے آتے ہیں، انہیں ایسے بھگا دیا جاتا ہے جیسے وہ مجرم ہوں۔ کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور انہیں 30-40 دنوں تک ضمانت نہیں ملتی۔ انہیں معطل کر دیا جاتا ہے اور پھر انہیں عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس میں وقت لگتا ہے۔

گنگا ندی کے بیچ ایک کشتی پر افطار پارٹی کرنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ کو ضمانت نہ دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھوئیاں نے سوال کیا کہ کیا ایسی چیز کے لیے ضمانت سے انکار کیا جا سکتا ہے، جو کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ چکن بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے۔ گنگا ندی پر چکن کھانے پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ انہیں اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 3 ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں خود سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسی سرگرمی کے لیے لوگوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور 3 ماہ تک ضمانت دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے! شہری دیکھ رہے ہیں، لوگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘

جسٹس بھوئیاں نے دہلی فسادات سے متعلق گل فشاں معاملے کے فیصلے کا بھی ذکر کیا، جس میں سپریم کورٹ نے ضمانت کے لیے سخت شرائط عائد کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان نوجوان طلبا کارکنوں کا معاملہ دیکھیں، جنہیں طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑا۔ عدالت نے انہیں ضمانت تو دی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ نہ صرف اپنا پاسپورٹ جمع کرائیں بلکہ کسی بھی عوامی اجلاس میں حصہ نہ لیں اور نہ ہی اس سے خطاب کریں، خواہ وہ اجلاس بالمشافہ ہو یا ورچوئل طریقے سے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایسی پابندیاں عائد کرنے سے ان کی بنیادی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کیا ایسے احکامات دے کر یا ایسی شرائط عائد کر کے عدالت یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ ایسی عوامی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں؟‘‘

Urdu News:
National قومی خبریں Arab عرب ممالک World عالمی خبریں Education تعلیم Jobs روزگار
Indian Newspapers:
اردو বাংলা অসমীয়া
Arab Media:
Algeria الجزائر Bahrain البحرين Comoros جزر القمر Djibouti جيبوتي Egypt مصر Iraq العراق Jordan الأردن Kuwait الكويت Lebanon لبنان Libya ليبيا Mauritania موريتانيا Morocco المغرب Oman عمان Palestine فلسطين Qatar قطر Saudi Arabia السعودية Somalia الصومال Sudan السودان Syria سوريا Tunisia تونس U.A.E الإمارات العربيّة المتّحدة Yemen اليمن
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Indian Newspapers
Arab Media
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Akhbar Urdu Logo
  • About Us
  • Advertising
  • Contact Us
  • Sitemap
  • Disclaimer
  • Privacy Policy

All trademarks, trade names, service marks, copyrighted work, logos referenced herein belong to their respective owners/companies. Any Query Please write us

©akhbarurdu.com, Indian Urdu Media Info website.

  • Home Icon Home
  • News Icon News
  • Newspapers Icon Newspapers
  • Naat Icon Naat
  • Dictionary Icon Dictionary
No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.