لیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے انڈیا بلاک کے لیڈران کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے اور بہت کوششوں کے بعد بھی انھیں سیکورٹی اہلکار آگے نہیں جانے دے رہے۔ بیریکیڈنگ کے ذریعہ راستے کو پوری طرح بند کر دیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی، جیہ بچن سمیت کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ اور دیگر لیڈران دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور ’گیانیش کمار تمھیں جانا ہوگا‘، ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔
ایک طرف انڈیا بلاک کے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو پولیس اہلکاروں نے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھنے سے روک دیا ہے، اور دوسری طرف کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ’’ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’آزادی کے بعد عوام کو ووٹ کا حق ملا تھا، جسے مودی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار حکومت کی کٹھ پتلی ہے۔‘‘
کھڑگے کا کہنا ہے کہ گیانیش کمار وہی کرتے ہیں جو مودی اور شاہ کہتے ہیں۔ اس سے جمہوریت اور آئین ختم ہو جائے گا اور تاناشاہی قائم ہوگی۔ انھوں نے موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انڈیا اتحاد کے لوگ اس ناانصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔







