ایران کے سمندری علاقے میں جمعہ (24 جولائی) کو ایک ایل پی جی (لیکویفائیڈ پٹرولیم گیس) ٹینکر پر حملہ ہوا۔ جہاز پر سوار تمام 28 ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔ تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ بیان میں بتایا کہ ’’موزمبیق کے جھنڈے والے ایل پی جی ٹینکر ’دشا‘ پر حملہ ہوا، لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ عملے کے تمام ہندوستانی اراکین محفوظ ہیں۔
ہندوستانی ملاحوں کی تنظیم ’فارورڈ سیمنز یونین آف انڈیا‘ کے مطابق یہ حملہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک نامعلوم میزائل سے کیا گیا۔ اس وقت ٹینکر خلیج فارس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حالانکہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، اس کی آفیشیل تصدیق اب تک نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اس واقعے نے دنیا کے سب سے اہم سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک آبنائے ہزمز کی سیکورٹی کو لے کر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔ حالیہ تنازعہ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر تناؤ بڑھنے کے بعد اس علاقے میں سمندری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ جولائی کی شروعات میں دونوں ممالک کے درمیان قائم عارضی جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا، جس سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سیکورٹی کو لے کر تشویش بڑھ گئی ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔







