اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے بلڈوزر سے منہدم کر دیا ہے۔ مسلم فریق کی اپیل مسترد ہونے کے بعد جمعہ کے روز کارروائی کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ کارروائی کے دوران موقع پر ایس ڈی ایم، سٹی مجسٹریٹ اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود تھے۔ کلکٹریٹ احاطے میں موجود مسجد کو ہٹانے کی کارروائی ضلعی عدالت کے حکم پر کی گئی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر کلکٹریٹ کے گیٹ بھی بند کر دیے گئے تھے، تاکہ باہر سے کوئی بھی اندر داخل نہ ہو سکے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی اور بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ آس پاس کے علاقوں میں بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
دراصل یہ پورا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا تھا، جب بجرنگ دل کے لیڈر وکاس تیاگی نے شکایت کی کہ انتہائی حساس اور خفیہ نوعیت کے کاموں والے مقام ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے احاطے میں اس مسجد کی تعمیر غیر قانونی طور پر کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس احاطے کا استعمال صرف مذہبی سرگرمیوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ تجارتی فائدے کے لیے بھی کیا جا رہا تھا۔ اس مسجد میں ایک ڈاک خانہ بھی تھا، اور باہری لوگوں کو کرائے پر کمرے دیے جا رہے تھے اور ان کا کرایہ مسجد کمیٹی وصول کر رہی تھی۔ باہری لوگوں کی دن رات بلا روک ٹوک آمد و رفت سے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کی سیکورٹی اور رازداری کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے 24 مارچ 2025 کو میونسپل مجسٹریٹ کی عدالت میں پی پی ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔ میونسپل مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ نے 16 جولائی 2026 کو اپنے حکم میں مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بے دخلی اور تقریباً ساڑھے 6 کروڑ روپے کی بھاری بھرکم تلافی کی رقم عائد کرنے کے ساتھ مسجد کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے بعد مسلم فریق نے 22 جولائی 2026 کو ضلعی عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ضلعی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
عدالت نے پایا کہ زیر بحث جائیداد پر ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991‘ کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ قانون کسی بھی صورت میں اس غیر قانونی جائیداد پر نافذ ہوتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے مسجد کو ہٹانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد جمعہ سے ہی مسجد کے آس پاس بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی تھیں اور آج صبح بلڈوزر لا کر مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ موقع پر اب بھی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ فی الحال شہر میں حالات پرامن ہیں اور انتظامیہ نے چپے چپے پر پولیس فورس تعینات کر رکھی ہے۔







