ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے ایک مرتبہ پھر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو لے کر حیران کن دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق 2026 تک اے آئی کسی عام انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گا۔ مسک نے مزید کہا کہ اگر ترقی کی یہی رفتار برقرار رہی تو 2030 تک مصنوعی ذہانت دنیا کے تمام انسانوں سے زیادہ سمجھدار اور اسمارٹ ہو سکتی ہے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ارتقا پا رہی ہے اور تقریباً ہر بڑی ٹیک کمپنی اس میدان میں سبقت لینے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
ماہرین پہلے بھی بارہا یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اے آئی ایک دن انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ کچھ تو یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں اے آئی انسانوں پر غلبہ حاصل کر سکتی ہے۔ حال ہی میں گوگل کے چیف سائنٹسٹ جیف ڈین نے کہا تھا کہ جدید اے آئی ماڈلز پہلے ہی کئی نان فزیکل کاموں میں عام انسان سے آگے نکل چکے ہیں۔
ایلون مسک، جو ایک جانب اے آئی کو لے کر پُرامید ہیں، وہیں اس کی تیز رفتار ترقی پر تشویش بھی ظاہر کرتے ہیں۔ 2020 میں انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ اگلے پانچ سالوں میں اے آئی انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اگرچہ ان کی یہ پیشن گوئی سو فیصد درست ثابت نہیں ہوئی، لیکن حالیہ ترقی کے آثار بتا رہے ہیں کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2017 میں آئی ایم آئی ٹی کی ایک اسٹڈی میں کہا گیا تھا کہ اگلے 45 برسوں میں مشینیں انسانوں کے برابر سمجھ حاصل کر سکتی ہیں اور اس کے 50 فیصد امکانات موجود ہیں۔ اسی اسٹڈی میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگلے 9 سالوں میں اس کے 10 فیصد امکان ہیں۔ ان تمام آراء سے صاف ظاہر ہے کہ اے آئی کی بڑھتی صلاحیتیں مستقبل میں انسانیت کے لیے امکانات کے ساتھ ساتھ خدشات بھی لے کر آ رہی ہیں۔
read more…qaumiawaz.com






