نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی میں ہونے والے طلبہ کے احتجاج سے متعلق دہلی حکومت نے فیصلہ کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف درج 13 ایف آئی آر واپس لینے اور گرفتار افراد کی رہائی کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ جن افراد کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، انہیں اس فیصلے کا فائدہ نہیں ملے گا۔
دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 29 جولائی کی شام 6 بجے تک نیٹ یو جی امتحان سے متعلق احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں دہلی پولیس نے مجموعی طور پر 13 ایف آئی آر درج کی تھیں۔ حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے 28 جولائی 2026 کو شیلندر منی ترپاٹھی بنام یونین آف انڈیا و دیگر مقدمے میں دیے گئے حکم کی روشنی میں تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق دہلی حکومت نے ہدایت دی ہے کہ قومی راجدھانی میں نیٹ احتجاج میں شریک افراد کے خلاف مزید کوئی منفی یا سخت قانونی کارروائی نہ کی جائے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان مقدمات کو یہیں ختم تصور کیا جائے گا اور مستقبل میں انہی احتجاجی واقعات کی بنیاد پر کوئی نئی کارروائی نہیں ہوگی۔
پریس ریلیز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ رعایت ان افراد پر لاگو نہیں ہوگی جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ ایسے معاملات میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق قانونی کارروائی جاری رہے گی۔







