نیٹ پیپر لیک اور نظامِ امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے تھے۔ اس پر منگل (28 جولائی) کو سپریم کورٹ میں سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔ عدالت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا سینئر پولیس افسران کے ساتھ موجود تھے۔ عرضی گزاروں کی طرف سے پیش سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے کہا کہ ’’یہ عرضی صرف دہلی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں مدھیہ پردیش، ناگپور اور بہار کے معاملے بھی شامل ہیں۔‘‘ عدالت نے حکم دیا ہے کہ فی الحال ایف آئی آر پر کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی مرکز سمیت 7 ریاستوں کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کہا کہ ’’معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’شروع میں تحریک پرامن طریقے سے چل رہی تھی تو پھر ایک روز اچانک تشدد کیسے بھڑک اٹھا؟ اس کی 2 وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ پولیس نے زیادہ سختی کر دی اور دوسری یہ کہ مظاہرین میں کچھ ایسے لوگ شامل ہو گئے جو تشدد بھڑکانا چاہتے تھے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب ایک پروٹوکول بن جائے گا تب جوابدہی طے کرنا آسان ہو جائے گا۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ تمام عرضیوں میں ایک جیسے معاملے اٹھائے گئے ہیں، جن میں پیلٹ گن کے استعمال سے ایک 19 سالہ نوجوان کی آنکھوں کی روشنی جانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ الیکٹرک بیٹن کا استعمال، ایک لڑکی کے شدید زخمی ہونے اور آئی سی یو میں زیر علاج ہونے، وکلاء پر حملے اور ایک صحافی پر حملے کا بھی ذکر عرضیوں میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ سادہ کپڑوں میں موجود پولیس اہلکاروں کے تشدد، نوجوان لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ایک خاتون پر سینیئر پولیس اہلکار کے ذریعے حملے کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسئلہ صاف ہے۔ طلبہ نے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کیا تھا اور احتجاج کا حق ہندوستان کے آئین سے ملا ہوا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے یہ بھی کہا کہ مظاہروں میں ہمیشہ کچھ شرپسند عناصر اپنے مقاصد کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور بعد میں خود کو منتظمین جیسا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔







