غزہ۔ : غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد فلسطینیوں نے بچا کھچا سامان اٹھا کر اپنے تباہ حال گھروں کا رخ کرلیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہری اپنے تباہ حال گھروں کو لوٹنے لگے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے معاہدے کے تحت نئی حدود پر پوزیشنز سنبھالنی شروع کردی ہیں۔ امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیاہے ، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹے کا وقت شروع ہوگیا۔ اس حوالے سے حماس، اسلامی جہاد اور پاپولرفرنٹ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کاداخلی معاملہ ہے ، کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبول نہیں کیا جائے گا تاہم عرب اوربین الاقوامی ممالک کی جانب سے غزہ کی تعمیرنو میں تعاون کاخیرمقدم کیا گیاہے ۔ گزشتہ روز اسرائیل فوج کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حماس کے 11قیدی رہا کیے جائیں گے ۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحد کے عہدیدار نے وضاحت کی کہ تنظیم کو اتوار سے غزہ میں امداد کی فراہمی شروع کرنے کیلئے اسرائیل کی جانب سے اجازت مل گئی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن امداد میں 170,000 میٹرک ٹن سامان شامل ہو گا جو اردن اور مصر جیسے پڑوسی ممالک میں پہلے سے موجود ہے ۔ یہ اس وقت ہوا جب انسانی ہمدردی کے اہلکار کام پر واپس جانے کیلئے اسرائیلی افواج کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت دار گزشتہ چند ماہ کے دوران غزہ کی پٹی میں درخواست کردہ امداد کا صرف 20 فیصد پہنچا سکے ہیں۔ واضح رہے کہ بدھ کو صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ معاہدہ اقوام متحدہ کے حکام کیلئے دو سال کی جنگ کے بعد امداد کی ترسیل کو بڑھانے کی صلاحیت کے حوالے سے مہینوں میں امید کی پہلی کرن کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اقوام متحدہ میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فلیچر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ رسائی کیلئے پوچھ رہا ہے ، التجا کر رہا ہے اور بھیک مانگ رہا ہے ۔






