کانپور: اسلام کا معاشی نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ دولت چند مالداروں کے ہاتھوں تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے میں گردش کرتی رہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی محض کوئی ٹیکس نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا فرمان اور غریبوں کا حق ہے، جس کی ادائیگی سے باقی ماندہ مال میں برکت، پاکیزگی اور اضافہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے آج نماز جمعہ سے قبل جامع مسجد اشرف آباد، جاجمئو کانپورمیں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اپنے خطاب میں مولانا قاسمی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں زکوٰۃ کی اہمیت و فضیلت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جب ایک مالدار شخص غریب کو اس نیت سے زکوٰۃ دیتا ہے کہ وہ اللہ کا حکم بجا لا کر اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے اور غریب زکوٰۃ قبول کر کے اس پر احسان کر رہا ہے، تو اس پاکیزہ سوچ سے امیر اور غریب کے درمیان کی خلیج اور طبقاتی کشمکش ختم ہو جاتی ہے۔ عہدِ خلفائے راشدین کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ زکوٰۃ کا نظام مضبوط ہونے سے معاشرے میں چوری، ڈکیتی اور دیگر معاشی جرائم کا خود بخود خاتمہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ان کے لیے قرآن و احادیث میں سخت وعیدیں اور دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے۔
نناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے زکوٰۃ کے نصاب اور اس کی شرائط کو نہایت آسان فہم انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ زکوٰۃ کے لیے مسلمان، عاقل، بالغ اور آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ مال کا مکمل قبضے اور ملکیت میں ہونا، نصاب کو پہنچنا، قرض سے فارغ ہونا اور اس پر ایک قمری سال کا گزرنا شرط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر کچھ سونا، کچھ چاندی، کچھ مال تجارت، کچھ نقدی اور ضرورت سے زائد سامان یا اس کے برابر نقدی اگر کسی کے پاس موجود ہے اور اس پر سال گزر چکا ہے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔عوام کی رہنمائی کے لیے زکوٰۃ کا حساب بتاتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اپنے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں (سونا، چاندی، کیش، غیر ملکی کرنسی، مالِ تجارت، انویسٹمنٹ اور بی سی وغیرہ) کی ایک فہرست بنائیں۔ اس کے بعد دوسری فہرست اپنی موجودہ مالی ذمہ داریوں (قرض، ادھار، واجب الادا بل، ملازمین کی تنخواہیں وغیرہ) کی بنائیں۔ کل اثاثوں میں سے ذمہ داریوں کی رقم کو منہا کر لیں اور باقی بچنے والی رقم کا ڈھائی فیصد (%2.5) زکوٰۃ کے طور پر مستحقین میں تقسیم کر دیں۔ مستعمل گاڑیوں، ذاتی رہائشی مکان اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ خواتین کے زیرِ استعمال زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ اس کی مکمل مالک ہوں۔
