نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کی اہم میٹنگ سے عین قبل یوروپی ملک پرتگال نے کچھ ایسا اعلان کیا ہے، جس نے اسرائیل کو دَم بخود کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو جھٹکا دیتے ہوئے پرتگال نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو آزاد ملک کی شکل میں منظوری عطا کرے گا۔پرتگال نے اس سلسلے میں آفیشیل اعلان جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ 21 ستمبر (اتوار) کو فلسطین کو آزاد ملک کی شکل میں منظوری دے گا۔ پرتگال کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز جاری بیان میں یہ جانکاری دی ہے۔ لسبن نے جولائی میں ہی واضح کر دیا تھا کہ مستقل بگڑتے حالات، انسانی بحران اور اسرائیل کی بار بار دی جا رہی دھمکیوں کے بعد یہ قدم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔
پرتگال کے قدم سے اسرائیل دَم بخود نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل جنرل اسمبلی کی ہونے والی میٹنگ سے قبل پیدا ماحول کو لے کر بھی فکر مند ہے۔ کئی مغربی و یوروپی ممالک ہیں جو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں فلسطین کو آزاد ملک کے طور پر منظوری دے سکتے ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے اپنی مخالفت ظاہر کرنی شروع کر دی ہے۔ تل ابیب کا کہنا ہے کہ یہ قدم حماس کو انعام دینے جیسا ہے، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو حملہ کر غزہ جنگ کی شروعات کی تھی۔ اسرائیلی حکومت کی دلیل ہے کہ فلسطین کو منظوری دینے سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا اور امن و امان کا عمل کمزور ہوگا۔
22 ستمبر کو جب نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں ’2 ملکی حل‘ پر گفتگو ہو رہی ہوگی، اسی دوران فرانس اور سعودی عرب مل کر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کریں گے۔ اس کانفرنس میں ناروے اور اسپین کی بھی شرکت رہے گی۔ کانفرنس کا اہم مقصد فلسطینی اتھارٹی کو معاشی بحران سے بچانا ہے۔ اسرائیل 4 ماہ سے فلسطینی اتھارٹی کے لیے وصول کیے گئے کروڑوں ڈالر کی رقم روک رکھی ہے، جس سے اس کی مالی حالت انتہائی خستہ ہو گئی ہے۔






