نئی دہلی: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کو 80ویں یوم آزادی کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا اور کہا کہ طلبہ کے حال اور مستقبل کی حفاظت بھی قومی سلامتی کی طرح حکومت اور سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک امتحانات نوجوانوں کے لیے مواقع کے دروازے ہیں اور حکومت امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کر رہی ہے تاکہ ناجائز ذرائع پر مکمل روک لگے اور امتحانات شفاف، محفوظ اور قابل اعتماد بنیں۔
صدر مرمو نے کہا کہ ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ نوجوان باصلاحیت اور ہنرمند ہیں اور کھیل، صنعت کاری، ٹیکنالوجی اور خلائی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اصلاحات اور پالیسیوں سے نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
2047 تک ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ کا ہدف حاصل کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کی ترقی کا راستہ اپنی میراث، شمولیت اور جدید ترقی کے امتزاج سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے وقار، مساوی مواقع اور ہر فرد کے احترام کے آئینی آدرشوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ آج معمولی پس منظر سے آنے والے لوگ مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کے ہندوستان میں ہر شخص بڑے خواب دیکھ سکتا ہے اور انہیں پورا بھی کر سکتا ہے۔
خواتین کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ تعلیم، زراعت، کھیل اور دیگر شعبوں میں خواتین کی شرکت اور قیادت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کے 13 طلائی تمغوں میں سے آٹھ خواتین کھلاڑیوں کے جیتنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نمائندگی کا راستہ ہموار کرنے کے لیے 2023 میں ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ منظور کیا گیا، جس کے نفاذ سے خواتین کی قیادت مزید بڑھے گی اور جمہوریت زیادہ ہمہ گیر ہوگی۔
بزرگ شہریوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر مرمو نے کہا کہ ملک میں بزرگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لیے ان کے احترام اور وقار کے لیے پورے سماج کو حساس رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً چھ کروڑ بزرگ شہریوں کے لیے ہر سال پانچ لاکھ روپے تک کی مفت طبی سہولت دستیاب کرائی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر شہری، بالخصوص محروم طبقات کے لوگوں کو مساوات اور احترام کی بنیاد پر بروقت انصاف ملنا چاہیے۔
قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ امن، تعاون، بات چیت اور ’وسودھیو کٹمبکم‘ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان گلوبل ساؤتھ کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی سطح پر ملک کا احترام بڑھا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت کثیر جہتی اداروں میں عالمی برادری کی مناسب نمائندگی کی کوششوں کو متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف ’آپریشن سندور‘ کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں کو سخت پیغام دیا گیا ہے کہ انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کو ملک، خصوصاً کسانوں کے مفاد میں فیصلہ کن قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان امن کی روایت کے ساتھ ساتھ اپنی خودداری اور شاندار روایات کے تحفظ کے لیے مؤثر دفاعی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
نکسل ازم کے خلاف مہم کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں اب جوش و خروش کا ماحول ہے اور وہاں ہمہ گیر ترقی ہو رہی ہے۔ انہوں نے بستر اولمپکس اور بستر پنڈوم جیسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں نے ان میں بڑی تعداد میں حصہ لیا ہے۔
