پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں منگل کو بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طلبہ نے روزگار کے بہتر مواقع، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور دیگر مطالبات کے حق میں وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، طلبہ کا مارچ اس وقت کشیدہ صورت اختیار کر گیا جب مظاہرین نے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے پولیس کی لگائی گئی بیریکیڈنگ عبور کرنے کی کوشش کی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
این ایس یو آئی سمیت کئی دیگر طلبہ تنظیموں کی مشترکہ اپیل پر ہزاروں طلبہ جے پی گولمبر سے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کی جانب مارچ کے لیے روانہ ہوئے۔ مظاہرین ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھائے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ پولیس نے پیشگی انتظامات کے تحت جے پی گولمبر، انکم ٹیکس گولمبر، ڈاک بنگلہ چوراہے اور دیگر حساس مقامات پر بیریکیڈنگ کر رکھی تھی تاکہ مظاہرین کو وزیر اعلیٰ رہائش گاہ تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
جب طلبہ نے بیریکیڈ ہٹانے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل اور تلخ نوک جھونک شروع ہوگئی۔ صورتحال کشیدہ ہوتے ہی اضافی پولیس فورس کو طلب کر لیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے اور حالات پر قابو پانے کے لیے واٹر کینن سے پانی کی تیز بوچھاڑ کی۔ اس کارروائی کے بعد کئی طلبہ سڑک پر بیٹھ گئے اور وہیں احتجاج جاری رکھا۔ پولیس نے انہیں سمجھا بجھا کر سڑک کے کنارے منتقل کیا اور مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔
احتجاج کے باعث جے پی گولمبر سے ڈاک بنگلہ چوراہے تک ٹریفک کچھ وقت کے لیے متاثر رہی۔ وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کی طرف جانے والے تمام اہم راستوں پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں اور خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا، جبکہ واٹر کینن سمیت دیگر حفاظتی وسائل بھی پہلے سے تیار رکھے گئے تھے۔







