نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ اور جنتر منتر پر طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر بدھ کو 10 جن پتھ پر مختلف ریاستوں سے آئے طلبہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ خواتین مظاہرین کے گھروں میں غنڈے بھیج کر ان سے زبردستی معافی منگوانے کی کوشش کی گئی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان مظاہرین سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق ان طلبہ نے آئین، تعلیمی نظام اور ملک کے مستقبل کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کا تشدد نہیں کیا، اس کے باوجود ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں، انہیں مارا پیٹا گیا اور مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’آپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اس لیے آپ کو کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ امتحانی پرچہ لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف آواز اٹھانا جرم نہیں بلکہ اصلاح کا مطالبہ ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ایک 15 سالہ طالبہ کے گھر غنڈے بھیج کر اس سے زبردستی معافی منگوائی گئی، جسے انہوں نے مکمل طور پر غیر معقول اور ناقابل قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات جمہوریت اور آئینی اقدار کے منافی ہیں۔
راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کارروائی ان کی معلومات کے بغیر ہوئی تو وہ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ہیں، اور اگر انہی کے حکم پر ہوئی تو پھر وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں جوابدہی امت شاہ کی بنتی ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ میڈیا کے سامنے آ کر اس معاملے پر سوالات کا سامنا کریں۔







