روسی فوج کا یوکرین پر حملہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا ہے اور اب اس کے ڈرون حملے پولینڈ تک پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز پولینڈ کی فضاؤں میں 19 روسی ڈرون دیکھے گئے، جن میں سے 4 کو پولش فوج نے ایف-35 طیاروں کی مدد سے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ پولینڈ ناٹو کا رکن ہے اور اس پر کوئی بھی حملہ براہِ راست ناٹو کے تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روسی ڈرون حملے کو ’تیسری عالمی جنگ‘ کی طرف ایک خطرناک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پولینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون جان بوجھ کر اس کی سرحد میں بھیجے گئے تھے، تاہم روس نے اس معاملے پر کوئی واضح رد عمل نہیں دیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ڈرون کیف (یوکرین) کے لیے بھیجے گئے تھے جو پولینڈ کی حدود میں داخل ہو گئے۔ پولینڈ کی افواج اس وقت ڈرون کے ملبے کی تلاش میں ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ناٹو بھی ملبہ ملنے کے بعد ہی کوئی باضابطہ بیان جاری کریں گے۔
اس دوران پولینڈ کے وزیر اعظم نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کیا۔ روبیو نے کہا کہ معاملے کی مکمل جانکاری امریکہ کو ہے اور صورت حال پر باریکی سے نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاریخی طور پر بھی پولینڈ پر حملے کی گونج عالمی جنگ کے آغاز سے جڑی ہے، کیونکہ 1939 میں جرمنی کے حملے سے ہی دوسری عالمی جنگ کی شروعات ہوئی تھی۔ آج ایک بار پھر یہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روس کے اس اقدام سے عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یورپی ممالک بالخصوص جرمنی، برطانیہ اور فرانس روس کے خلاف جارحانہ مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ڈسک نے بھی اس حملے کو براہِ راست ’عالمی جنگ‘ سے جوڑتے ہوئے ناٹو کے اصول و ضوابط کی طرف اشارہ کیا ہے، جن کے مطابق ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔
read more….qaumiawaz.com






