Akhbarurdu Logo
  • Home
  • اردو خبریں
    • قومی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
X
  • Home
  • اردو خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
Akhbarurdu Logo
  • Urdu Dictionary
  • Naat Online
  • Hajj 2025
  • Regional Newspapers
Home اردو قومی خبریں

عالم بدیع اعظمی:ایک درویش کی رحلت

Akhbar Urdu by Akhbar Urdu
1 hour ago
عالم بدیع اعظمی:ایک درویش کی رحلت

معصوم مرادآبادی

ہندوستانی سیاست میں شرافت، صداقت اور ایمانداری کی سب سے روشن مثال عالم بدیع اعظمی گزشتہ رات اپنے وطن اعظم گڑھ میں انتقال کرگئے۔وہ اترپردیش اسمبلی میں سماجوادی پارٹی کے سب سے سینئر ایم ایل اے تھے۔ وہ گزشتہ چار ماہ سے علیل تھے اور کچھ عرصہ لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں بھی ان کا علاج بھی ہوا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 90برس سے زیادہ تھی۔ ان کی پیدائش16/مارچ 1936کو ہوئی تھی اور گزشتہ مارچ میں جب انھوں نے اپنی عمر کے 90/برس مکمل کئے تھے تو اترپردیش اسمبلی میں ایک قرار داد پاس کرکے ان کی سیاسی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔ وہ پچھلے پانچ ٹرم سے ایم ایل اے تھے اور پہلی بار 1996میں چنے گئے تھے۔ وہ آنجہانی ملائم سنگھ یادو کے قریبی لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔
عالم بدیع اعظمی کی رحلت قومی اور ملی سیاست کا ایک بڑا نقصان ہے۔ سیاست کی موجودہ آلودگیوں میں ان کی مثال ایک جزیرے جیسی تھی ۔ وہ ہرقسم کی علتوں سے پاک تھے۔نہ دولت، نہ ثروت، نہ زمین نہ جائیداد، نہ شہرت اور بیان بازی۔ صرف عوامی خدمت اور ضرورت مندوں کے کام آنا ان کا مشغلہ تھا۔ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور درویشانہ مزاج کے حامل تھے۔ وہ آزادی کے بعد کی مسلم قیادت اور سیاست کے ایک اہم ستون تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں تاریخ کے کئی ابواب کو رقم ہوتے ہوئے دیکھا۔
عالم بدیع اعظمی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ عوام کے پیچھے چلنے والے قائدین میں نہیں تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم مسائل کے انبار کے لیے غیروں سے زیادہ خود مسلمانوں کو ذمہ دار سمجھتے تھے۔ وہ مسلمانوں کی بے عملی، بے راہ روی اورنری جذباتیت سے شاکی تھے اور انھیں ایک بے سمت ریوڑ تصور کرتے تھے۔ آزادی کے بعد کی مسلم تحریکوں اور مسلم قائدین کی پوری تاریخ انھیں اس طرح یادتھی کہ جیسے کل ہی کی بات ہو۔ انھیں مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور ہر بامقصد کتاب ان کی دسترس میں رہتی تھی۔ نہ صرف خود پڑھتے تھے بلکہ دوسروں کو پڑھنے اور سنبھلنے کی ترغیب دیتے تھے۔ کئی برس ہوئے جب ان سے جید صحافی مرحوم جمیل مہدی کی یاد میں لکھنؤ میں منعقدہ ایک سیمینار میں نیاز حاصل ہوا تھا۔ اس کے بعد ان کا یہ معمول تھا کہ تقریباً ہرروز فون کرکے ملی اور قومی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ان کے اندر ملک وملت کی جو تڑپ تھی وہ بہت کم قائدین میں نظر آئی۔ وہ صحافیوں کے مسلسل رابطے میں رہتے تھے اور ان کے غم خوار بھی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ دنوں جب ایک سرکردہ اردو صحافی بیماری اور آزاری کا شکار تھے اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں تھا تو عالم بدیع اعظمی نے کئی بار ان کے علاج معالجہ کا انتظام کیا اور مجھ سے برابر ان کی خیریت دریافت کرتے رہے۔
عالم بدیع اعظمی، اعظم گڑھ کے نظام آباد حلقے سے1996سے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر مسلسل کامیاب ہورہے تھے۔یہ ایک ایسا حلقہ ہے جہاں 90/فیصد آبادی غیر مسلم ہے۔ ان کی عوامی خدمت کی وجہ سے علاقہ کے لوگ ان کے اس قدر مداح تھے کہ ان کے علاوہ کسی کو ووٹ نہیں دیتے تھے۔انھوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کو34 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی تھی۔ عالم بدیع اعظمی کی ہردلعزیزی کا بڑا سبب یہ تھا کہ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتے تھے اور نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ روڈ ویز کی بسوں میں سفر کرتے تھے اور اپنے حلقہ میں لوگوں سے لفٹ لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جایا کرتے تھے۔لکھنؤ میں جب اسمبلی اجلاس ہوتا تو دیگر ممبران جہاں لگژری گاڑیوں میں بیٹھ کر ودھان سبھا پہنچتے تھے تو وہیں عالم بدیع اعظمی کسی کے اسکوٹر کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر خاموشی سے وہاں آتے اور اس سے زیادہ خاموشی کے ساتھ اندر چلے جاتے تھے۔وہ شاید یوپی اسمبلی کے سب سے غریب رکن تھے۔
پچھلے دنوں ایک مشہور نیوز چینل کی ٹیم جب ان کا انٹرویو لینے ان کے گھر پہنچی تو وہ اپنے کمرے میں جھاڑو لگا رہے تھے۔ کیمرہ مین نے جب اس غیر معمولی منظر کو اپنے کیمرے میں قید کرنا چاہا تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے ایسا کرنے سے منع کردیا کہ”یہ میرا نجی کام ہے، جو سبھی اپنے گھر میں انجام دیتے ہیں، اسے ٹی وی پر کیا دکھانا۔”عالم بدیع اعظمی نہایت معمولی کپڑے پہنتے تھے۔ یعنی صرف بیس روپے میٹر کے لٹھے کا کرتا پاجامہ ان کا لباس تھا۔ دوپٹی کے معمولی ہوائی چپل اور سرپہ گرم ٹوپی۔ کان میں ایک آلہ ضرور لگاتے تھے جو ان کی سماعت کو تیز کرنے کاکام کرتا تھا۔800/روپے قیمت کا معمولی کی پیڈ والا موبائل استعمال کرتے تھے۔ان میں بلا کی خوداعتمادی تھی اور 90/سال کی پیرانہ سالی کے باوجود ان کی یادداشت غضب کی تھی۔
گزشتہ دنوں جب انھیں ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی پر خاکسار کی تازہ کتاب کی اشاعت کا علم ہوا تو انھوں نے اسی شام کئی بار مجھے فون کیا۔ کہیں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کی کال نہیں اٹھاپایا۔ جب بات ہوئی توان کی گفتگو میں ڈاکٹر فریدی کی یادوں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عالم بدیع صاحب نے اپنا سیاسی کیریر ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کی سرپرستی میں شروع کیا تھا اوردوبار ان کی پارٹی مسلم مجلس سے الیکشن بھی لڑا۔ وہ اس وقت ڈاکٹر فریدی کے سینئر ترین متعلقین میں سے ایک تھے۔ ان کے انتقال سے ملی سیاست اور قیادت میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
(بشکریہ “انقلاب” نئی دہلی)

Urdu News:
National قومی خبریں Arab عرب ممالک World عالمی خبریں Education تعلیم Jobs روزگار
Indian Newspapers:
اردو বাংলা অসমীয়া
Arab Media:
Algeria الجزائر Bahrain البحرين Comoros جزر القمر Djibouti جيبوتي Egypt مصر Iraq العراق Jordan الأردن Kuwait الكويت Lebanon لبنان Libya ليبيا Mauritania موريتانيا Morocco المغرب Oman عمان Palestine فلسطين Qatar قطر Saudi Arabia السعودية Somalia الصومال Sudan السودان Syria سوريا Tunisia تونس U.A.E الإمارات العربيّة المتّحدة Yemen اليمن
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Indian Newspapers
Arab Media
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Akhbar Urdu Logo
  • About Us
  • Advertising
  • Contact Us
  • Sitemap
  • Disclaimer
  • Privacy Policy

All trademarks, trade names, service marks, copyrighted work, logos referenced herein belong to their respective owners/companies. Any Query Please write us

©akhbarurdu.com, Indian Urdu Media Info website.

  • Home Icon Home
  • News Icon News
  • Newspapers Icon Newspapers
  • Naat Icon Naat
  • Dictionary Icon Dictionary
No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.