مہاراشٹر کے قبائلی ترقیاتی محکمہ کے زیر انتظام ’آشرم شالاؤں‘ (قبائلی رہائشی اسکولوں) میں پڑھنے والے طلبا کی حفاظت اور صحت پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ محکمہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 2 سالوں کے دوران ریاست کے 1,056 آشرم شالاؤں میں مجموعی طور پر 584 طلبا کی موت ہوئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سرکاری آشرم شالاؤں میں اموات کی تعداد امداد یافتہ آشرم شالاؤں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔
حال ہی میں گڑھ چرولی ضلع کے جپت لائی واقع ایک آشرم شالہ میں سانپ کے کاٹنے سے 3 معصوم طالبات کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد قبائلی ترقیاتی محکمہ نے جب ہوش میں آ کر پوری ریاست کی آشرم شالاؤں میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا شروع کیا تو 2 سال کے اندر 584 اموات پر مبنی یہ خوفناک اعداد و شمار سامنے آیا۔ محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری آشرم شالاؤں میں 384 طلبا کی موت ہوئی، جبکہ امداد یافتہ آشرم شالاؤں میں 200 طلبا ہلاک ہوئے ہیں۔ سامنے آئی رپورٹ کے مطابق اموات کی اہم وجہ بیماری، حادثات اور سانپ کا کاٹنا ہے۔ اس رپورٹ میں جو اہم باتیں سامنے آئی ہیں، وہ اس طرح ہیں:
سنگین بیماری: 273 طلبا کی جان علاج کی عدم دستیابی یا سنگین بیماریوں کے باعث گئی (182 سرکاری + 91 امداد یافتہ)
حادثات: 228 طلبا کی موت مختلف حادثات میں ہوئی (155 سرکاری + 73 امداد یافتہ)
پھانسی (خودکشی): 55 طلبا کی موت پھانسی لگانے سے ہوئی (25 سرکاری + 30 امداد یافتہ)
سانپ کا کاٹنا: 28 طلبا کی جان زہریلے سانپوں کے کاٹنے سے گئی (22 سرکاری + 6 امداد یافتہ)، جو مجموعی اموات کا تقریباً 5 فیصد ہے۔
88 فیصد اموات گھر پر، 11 فیصد اسکول احاطے میں ہوئیں







