اترپردیش میں میرٹھ کے شاستری نگر سنٹرل مارکیٹ کی تاریخ میں بدھ کا دن ایک سیاہ باب کے طور پر درج ہوگیا۔ یہاں محض 9 گھنٹے کے اندر انتظامیہ نے 40 سال کے خوابوں اور تقریباً 40 ہزار لوگوں کے ذریعہ معاش پر سرکاری سیل لگادی۔ اس دوران دکاندار، اسکول اور اسپتال چلانے والے متاثرین روتے بلکتے ہوئے حکام سے فریاد کرتے رہے لیکن افسران کسی کے آنسو پر ترس کھانے کو تیار نہیں تھے۔ صبح 9 بجے شروع ہونے والی سیلنگ مہم شام 6 بجے تک جاری رہی۔
منگل کی رات 2 بجے تک کاروباریوں نے سیلنگ روکنے کی حکمت عملی تیار کی تھی۔ بدھ کی صبح 5 بجے سے ہی مختلف مقامات پر کاروباریوں کوتعینات کیا گیا تھا لیکن انتظامیہ کی تیاریاں اس سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔ پولیس نے صبح سویرے ہی بیریکیڈ لگا دیئے اور چپے چپے پر فورسز کو تعینات کر دی۔ صبح 8 بجے آواس وکاس حکام کے دورے کے بعد صبح 9 بجے ایم پی جی ایس گرلز کالج پر پہلی سیل لگا کر کارروائی شروع کی گئی۔ رنگولی منڈپ اور سدھا اسپتال پر سیل لگتے ہیں کاروباریوں میں کہرام مچ گیا۔ گرودوارہ روڈ پر واقع سینڈ فورڈ اسپتال، امریکن کڈز اسکول کو سیل کر دیا گیا۔
ٹیم جب ڈاکٹر اشوک گرگ کے کلینک پر پہنچی تو انہوں نے سامان نکالنے کے لیے وقت مانگا۔ اس دوران دوسری ٹیم نے وردھمان اسپتال، باکسی پارک ریسٹورنٹ اور ویئر ہاؤس پر سیلنگ کی کارروائی کی۔ اس دوران سمیت نرسنگ ہوم کے سامنے واقع کمرشل کمپلیکس (30+ دکانیں) کو سیل ہوتے دیکھ کر لوگ تڑپ اٹھے۔ وہیں ستیش ڈھاکا کا کمپلیکس بپی سیل کیا گیا جس میں نشہ چھڑانے کے لیے ایک سینٹر اور ایج درجن سے زائد دکانیں تھیں۔ کئی دکاندار جنہوں نے دکانیں پیچھے کرکے شٹر بھی لگا لیئے تھے، ان سے بھی خوب بحث ہوئی۔ موقع پر دکانداروں کے خاندانوں کی کئی خواتین کے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ کوئی چھوٹے دکاندار ہاتھ جوڑے خاندان کی روزی روٹی کی دُہائی دیتے رہے لیکن سیلنگ ٹیم نے ان کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔







