یو پی آئی کے ذریعہ منتخب مرچنٹ ادائیگیوں پر چارج لگائے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فی الحال فوری پابندی سے انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، یو پی آئی اسٹیئرنگ کمیٹی اور این پی سی آئی سمیت متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ تمام سے 4 ہفتے کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔ معاملے کی سماعت سی جے آئی کی صدارت والی بنچ کر رہی ہے۔ عرضی میں 2000 روپے سے زیادہ کے منتخب مرچنٹ ادائیگیوں پر نافذ کیے گئے نئے مرچنٹ چارجز کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
سی جے آئی جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ آج وکیل انجنا دتہ کی رِٹ عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) این وینکٹ رمن نے کہا کہ یہ چارج 15 اکتوبر سے نافذ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 96 فیصد ٹرانزیکشن پر یہ چارج نہیں لگے گا اور ضروری خدمات کے لیے چارج کی حد 5 روپے طے کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ نہ تو ٹیکس ہے اور نہ ہی کوئی فیس۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ہمیں یہ حقائق حلف نامے (ایفی ڈیوٹ) پر چاہئیں، یہ زیادہ تر ایک تکنیکی معاملہ ہے۔
جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے پوچھا کہ ’’کیا یہ ٹیکس ہے یا فیس؟ اگر فیس نہیں ہے تو اس وصولی کی انتظامی بنیاد کیا ہے؟ اس میں کون سی سروس فراہم کی جا رہی ہے؟‘‘ اس پر این وینکٹ رمن نے واضح طور پر کا کہ ’’یہ وصولی نہیں ہے۔ حکومت ان چارجز سے ایک روپیہ بھی نہیں لے رہی ہے اور یہ پیمنٹ ایگریگیٹرز اور بینکوں کے درمیان سیٹلمنٹ فیس ہے۔‘‘ اے ایس جی نے یہ بھی کہا کہ ’’جب بینک الیکٹرانک ٹرانزیکشن کرتے ہیں تو لاگت آتی ہے اور کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن پر چارج لگاتے ہیں، جبکہ یو پی آئی پیمنٹ ان چارجز سے چھوٹ دی گئی تھی۔ حالانکہ پورے سسٹم کو ٹھیک سے کام کرتے رہنے کے لیے یہ چارج ضروری ہے۔جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے پوچھا کہ ’’کیا یہ ٹیکس ہے یا فیس؟ اگر فیس نہیں ہے تو اس وصولی کی انتظامی بنیاد کیا ہے؟ اس میں کون سی سروس فراہم کی جا رہی ہے؟‘‘ اس پر این وینکٹ رمن نے واضح طور پر کا کہ ’’یہ وصولی نہیں ہے۔ حکومت ان چارجز سے ایک روپیہ بھی نہیں لے رہی ہے اور یہ پیمنٹ ایگریگیٹرز اور بینکوں کے درمیان سیٹلمنٹ فیس ہے۔‘‘ اے ایس جی نے یہ بھی کہا کہ ’’جب بینک الیکٹرانک ٹرانزیکشن کرتے ہیں تو لاگت آتی ہے اور کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن پر چارج لگاتے ہیں، جبکہ یو پی آئی پیمنٹ ان چارجز سے چھوٹ دی گئی تھی۔ حالانکہ پورے سسٹم کو ٹھیک سے کام کرتے رہنے کے لیے یہ چارج ضروری ہے۔
غور طلب ہے کہ این سی پی آئی نے 15 اکتوبر سے یو پی آئی کے ذریعہ منتخب مرچنٹ ادائیگیوں پر چارج یعنی ایم ڈی آر کا نظام لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2000 روپے سے زائد کی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد چارج مقرر کیا گیا ہے۔ 7500 ہزار روپے یا اس سے زائد کی ادائیگی پر اس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے رکھی گئی ہے۔ حالانکہ عام لوگوں کے درمیان ہونے والی یو پی آئی ادائیگی پر کوئی چارج نہیں لگایا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 96 فیصد مرچنٹ لین دین اس تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گے۔ نئے نظام میں چھوٹے دکانداروں کے لیے بھی چارج سے چھوٹ کا التزام ہے۔ یو پی آئی کیو آر کے ذریعہ ہر ماہ ایک لاکھ روپے تک حاصل کرنے والے چھوٹے تاجروں کو کوئی چارج نہیں دینا پڑے گا۔ ریلوے، ٹیلی کام، انشورنس، ایندھن اور زرعی مصنوعات جیسے شعبوں میں 2000 روپے سے زائد کے لین دین پر 5 روپے کا فکسڈ چارج طے کیا گیا ہے۔v
