نئی دہلی: دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے راجدھانی دہلی میں سنگین فضائی آلودگی معاملہ پر ایک بار پھر دہلی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فضائی آلودگی عوامی زندگی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، جو عآپ اور بی جے پی دونوں حکومتوں کے سیاسی مفادات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 سے دہلی مسلسل دنیا کی سب سے زیادہ زہریلی ہوا والی راجدھانی بنی ہوئی ہے۔ دہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی کی معلومات کے مطابق 2017 سے اکتوبر 2025 تک دہلی میں آلودگی پر 53,052 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اتنی بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود آلودگی میں بہتری کی سمت میں ایک فیصد بھی بہتری نظر نہیں آتی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ خطیر رقم بدعنوانی کی نذر ہو گئی؟ دہلی کانگریس صدر نے اس معاملے میں جانچ کا مطالبہ بھی کیا۔
دیویندر یادو نے کہا کہ راجدھانی میں آلودگی کے مسلسل بڑھنے کی ذمہ داری دہلی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت پر بھی برابر عائد ہوتی ہے، کیونکہ 25-2024 میں 858 کروڑ روپے کے بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم استعمال ہوا۔ دہلی میں بھی یہی صورتحال رہی، جہاں منصوبوں کو وقت پر نافذ نہ کرنے کے باعث مختص بجٹ کے مقابلے میں خرچ بہت کم ہوا۔ دہلی حکومت کے 26-2025 کے بجٹ میں آلودگی کنٹرول اور ماحولیات کے لیے 1,885 کروڑ روپے مختص کیے گئے، لیکن آلودگی کنٹرول کے لیے محض 300 کروڑ روپے خرچ ہوئے، شجرکاری پر 506 کروڑ روپے اور یمنا کی صفائی پر 750 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔







