مودی حکومت نے 2000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر 0.4 فیصد کا ’مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ‘ (یو پی آئی ایم ڈی آر) نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ اگلے ماہ 15 اکتوبر سے نافذ ہونے والا ہے۔ لیکن ’یو پی آئی ایم ڈی آر‘ چارج نافذ ہونے سے قبل ہی اس کے منفی اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ جہاں دکانداروں سے لے کر تاجروں تک میں مارجن کم ہونے کی تشویش بڑھ گئی ہے، وہیں خصوصاً پٹرول پمپوں پر اب الگ ہی منظر ہے۔ راجستھان کے الور میں کئی پٹرول پمپوں پر نقد ادائیگی کے پوسٹر لگا دیے گئے ہیں اور یہاں پٹرول-ڈیزل بھروانے کے لیے پہنچنے والے صارفین سے صاف کہا جا رہا ہے کہ 2000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی نہ کریں۔ یہاں تک کہ تیل کی آن لائن ادائیگی لینے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔
مودی حکومت یو پی آئی پر 2000 روپے سے زیادہ کے لین دین پر ایم ڈی آر ٹیکس وصول کرنے کی تیاری میں ہے اور اکتوبر سے یہ نیا ضابطہ (یو پی آئی ایم ڈی آر چارج رول) نافذ کیا جائے گا۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک خبر کے مطابق الور میں پٹرول پمپوں پر اس معاملے کو لے کر ملک میں جاری اختلافات کے درمیان پٹرول پمپوں اور سی این جی اسٹیشنوں پر اب نقد ادائیگی کے پوسٹر لگ چکے ہیں۔ پٹرول پمپ آپریٹروں نے کہا ہے کہ اکتوبر سے ٹیکس کا عمل نافذ ہوگا۔ اس لیے فی الحال وہ لوگ یو پی آئی ادائیگی لے رہے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے لوگوں کو اس کے بارے میں اطلاع مل رہی ہے، وہ اس سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگی سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں بھی یو پی آئی ادائیگی کو لے کر کنفیوژن کی کیفیت ہے۔
پٹرول پمپ آپریٹروں نے یو پی آئی پر لگنے والے ٹیکس کے حوالے سے بتایا کہ اکتوبر سے نافذ ہونے والے یو پی آئی ایم ڈی آر سے متعلق ابھی تک کوئی واضح ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حالانکہ کچھ پمپوں نے نقد ادائیگی لینی شروع بھی کر دی ہیں اور لوگوں کو نقد ادائیگی کے بارے میں اطلاع بھی دی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب پٹرول پمپ پر پٹرول-ڈیزل بھروانے کے لیے آنے والے صارفین نے بتایا کہ اب تک لوگوں میں پس وپیش کی صورتحال ہے۔ انہیں صحیح اطلاع نہیں مل پا رہی ہیں۔ حالانکہ لوگ 2000 روپے سے زیادہ آن لائن ٹرانزیکشن سے گریز کر رہے ہیں۔ اگر انہیں 2000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی کسی کو کرنی ہے تو وہ رقم کو 2 سے 3 حصوں میں منتقل کر رہے ہیں۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر تاجروں پر کوئی اثر پڑے گا تو اس کا اثر عام آدمی کی جیب پر پڑنا بھی لازمی ہے، کیونکہ تاجر کوئی بھی ٹیکس اپنی جیب سے ادا نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اچانک اس طرح ٹیکس نہیں لگانا چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومت کو دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ ’این پی سی آئی‘ کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یو پی آئی ایم ڈی آر چارج صرف 4 فیصد منتخب تاجروں کو ہی متاثر کرے گا۔ 96 فیصد چھوٹے تاجر اس کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ ان 4 فیصد تاجروں سے ہی 2000 روپے سے زیادہ کے لین دین پر ایم ڈی آر وصول کیا جائے گا، وہ بھی زیادہ سے زیادہ 300 روپے۔ ماہانہ ایک لاکھ روپے کمانے والے تاجروں اور 2000 روپے تک کے لین دین حاصل کرنے والے کاروباریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔







