امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کی سابق ایجنٹ سارا ایڈمس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر طالبان کے بڑے افسران کی بیویوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔ سارا کے مطابق اسلام آباد میں جو پاکستان کے سفیر ہیں، ان کی اہلیہ نے میک اپ کی ہوئی تصویر اپنے پاسپورٹ پر لگوائی ہے۔ حالانکہ طالبان میں بیوٹی پارلر چلانے پر پابندی ہے۔ سارا نے ان کے علاوہ دیگر 8 بڑے افسران کی بیویوں کی تفصیلی معلومات شیئر کی ہیں۔ ساتھ ہی سارا نے سوال اٹھایا ہے کہ طالبان میں اخوندزادہ کا قانون صرف عام خواتین کے لیے کیوں ہے؟
قابل ذکر ہے کہ طالبان میں خواتین کی تعلیم، حق اور آزادی کو لے کر مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں۔ طالبان کے سابق صدر حامد کرزئی اس کو لے کر طالبانیوں کے نشان پر بھی رہے ہیں۔ حال ہی میں طالبان حکومت نے کرزئی کو ملک سے باہر جانے کا فرمان بھیجا تھا۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی قوانین نافذ کر رہے ہیں۔ طالبان میں خواتین نہ تو ملازمت کر سکتی ہیں اور نہ ہی کہیں اکیلے کہیں گھومنے جا سکتی ہیں۔ واضح ہو کہ طالبانیوں نے 2021 میں افغانستان کی حکومت کو ہٹا کر پورے ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔
واضح ہو کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اپنے نئے فرمان میں کہا ہے کہ خواتین سرکاری دستاویزات سے اپنی تصویر فوری طور پر ہٹا لیں۔ طالبان کے اس فیصلہ کا براہ راست اثر ان خواتین پر پڑنے والا ہے جو بیرون ممالک جانا چاہتی ہیں۔ طالبان حکومت کے اس حکم کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر طالبان سے تعلق رکھنے والے 9 بڑے بڑے افسران کی بیویاں وائرل ہونے لگیں۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا طالبان حکومت کا حکم صرف عام خواتین پر نافذ ہوگا؟ بڑے بڑے افسران کی بیویاں پاسپورٹ بنوا کر افغانستان سے باہر آسانی سے گھومنے اور رہنے جا رہی ہیں۔






