گنگا جمنی تہذیب اور ادب وآداب کے لیے مشہوراترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک بار پھر ہندو۔ مسلم کھائی کو پاٹنے کی کوشش کرکے ملک کا مستقبل کہلانے والے طلباء نے عبادت کا احترام کرنے کی شاندارمثال پیش کی ہے۔ اطلاع کے مطابق لکھنؤ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے نام پر تاریخی لال بارہ دری اور اس کے اندر موجود قدیمی مسجد کے گیٹ کو سیل کر کے بیریکیڈ لگائے جانے سے ادارے میں کشیدگی پھیل گئی۔ اس کارروائی کے خلاف طلباء لیڈروں اور مسلم طلباء نے کیمپس میں شدید احتجاج کیا۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اے ایس آئی کی محفوظ کردہ اس بوسیدہ عمارت سے ہونے والے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں طلباء نے بیریکیڈ ہٹا دیئے اور مسجد کے باہر ہی نماز ادا کرنے لگے۔ اس دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ہندو طلباء ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے اور حفاظتی گھیرا بناکرنمازیوں کی حفاظت کی۔
معلوم ہوکہ لال بارہ دری تقریباً 200 سال پرانی تاریخی عمارت ہے جسے نواب ناصر الدین حیدر نے 1800 عیسوی میں تعمیر کرائی تھی۔ یہ عمارت یونیورسٹی کے قیام سے پہلے کی ہے اور اسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ذریعہ محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ طلباء کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے قدیمی مسجد کے حصے کو پیشگی اطلاع کے بغیر بند کر دیا۔ اس اچانک کارروائی سے مشتعل یونیورسٹی کے طلباء کی بڑی تعداد بارہ دری کے سامنے جمع ہوگئی اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔
احتجاج کے دوران یونیورسٹی کیمپس میں ایک دلچسپ منظر سامنے آیا۔ جب مسجد کا گیٹ بند کئے جانے کی وجہ سے مسلمان طلباء نے مسجد کے باہر ہی نماز ادا کرنا شروع کی تو ہندو ساتھی ان کے دفاع میں اترآئے۔ یونیورسٹی کے ہندو طلباء نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نماز پڑھ رہے طلباء کے چاروں طرف ایک حفاظتی گھیرا (چین) بنالیا۔ اس پورے واقعہ کا ویڈیو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں طلباء مذہب کی دیوار کو توڑ کر ہم آہنگی کا پیغام دیتے نظر آرہے ہیں۔







