کانگریس نے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات اور ضمنی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کی منظوری کے بعد جاری ہونے والی اس فہرست میں کئی ایسے نام شامل ہیں جنہیں تنظیمی وفاداری، سیاسی تجربے اور قیادت کے اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر کرناٹک سے تین اہم رہنماؤں کو میدان میں اتار کر کانگریس نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے مضبوط گڑھ کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
کرناٹک سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ پارٹی کے قومی ترجمان پون کھیڑا اور سینئر رہنما منصور علی خان کو بھی راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ پون کھیڑا کی نامزدگی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وہ پہلی بار پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پہنچنے کے قریب ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے پارٹی کا مؤثر اور توانا چہرہ رہے ہیں اور قومی سطح پر کانگریس کے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔
منصور علی خان کو اقلیتی طبقے کی ایک اہم آواز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی نامزدگی کو سماجی نمائندگی اور مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی کانگریس کی پالیسی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش سے سابق رکن پارلیمنٹ میناکشی نٹاراجن کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنایا گیا ہے۔ وہ راہل گاندھی کی قریبی ساتھیوں میں شمار کی جاتی ہیں اور تنظیمی و سیاسی سطح پر طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کی نامزدگی کو خواتین قیادت کے فروغ اور مدھیہ پردیش میں پارٹی کی مضبوطی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔راجستھان سے موجودہ راجیہ سبھا رکن نیرج ڈانگی پر ایک بار پھر اعتماد ظاہر کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے انہیں دوبارہ امیدوار بنا کر ان کی سیاسی خدمات اور تنظیمی کردار کو سراہا ہے۔







