اتر پردیش کے وارانسی میں گزشتہ پیر کو گنگا ندی میں ایک کشتی پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اب اس افطار پارٹی نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ افطار پارٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ افطار کے دوران مبینہ طور پر چکن بریانی پیش کی گئی۔ الزام ہے کہ کھانے کے بعد بچا ہوا حصہ، جس میں ہڈیاں بھی شامل تھیں، گنگا ندی میں پھینک دیا گیا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے گنگا کی پاکیزگی کے خلاف قرار دیتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ رمضان کے دوران اس طرح کی سرگرمی کو مذہبی حساسیت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ نوجوان کشتی پر جمع ہو کر افطار کر رہے ہیں اور بچا ہوا کھانا ندی میں ڈال رہے ہیں۔
اس معاملہ میں ’بھارتیہ جنتا یووا مورچہ‘ (بی جے وائی ایم) کے سٹی پریسیڈنٹ رجت جیسوال نے کوتوالی تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک طبقہ کے کچھ نوجوانوں نے گنگا کے بیچ کشتی پر افطار کرتے ہوئے نہ صرف گوشت سے تیار کھانا کھایا بلکہ اس کا بچا ہوا حصہ ندی میں پھینک کر مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے وائرل ویڈیو کی جانچ شروع کر دی ہے۔







