وزیر اعظم نریندر نے جمعرات (16 اپریل) کو نئی دہلی میں واقع حیدرآباد ہاؤس میں آسٹریا کے چانسلر ڈاکٹر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا اہم مقصد ہندوستان اور آسٹریا کے درمیان آپسی رشتوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور مرکزی وزیر پیوش گوئل بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاہدوں (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے مشترکہ پریس بیان جاری کیا۔
اس دوران وزیر اعظم مودی نے آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ مشترکہ پریس بیان میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے کی بات کہی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چانسلر کا یہ دورہ تجارت اور سرمایہ کاری میں نئی توانائی لائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور آسٹریا مل کر ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو مضبوط کریں گے، تاکہ دنیا کو قابل بھروسہ حل مل سکے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بایو ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھی تعاون بڑھائیں گے۔ ساتھ ہی آئی آئی ٹی دہلی اور آسٹریا کی مونٹینا یونیورسٹی کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس تعاون کی بہترین مثال ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ 2023 میں ہوئے مائگریشن اور موبلٹی معاہدے کے تحت اب نرسنگ سیکٹر میں بھی لوگوں کی آمد و رفت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تحقیق اور اسٹارٹ اَپس میں بھی دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔ ہندوستان اور آسٹریا نے مل کر ’ورکنگ ہالیڈے پروگرام‘ بھی شروع کیا ہے، جس سے نوجوانوں کو نئے مواقع ملیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ خواہ یوکرین ہو یا مشرق وسطیٰ، دونوں ممالک امن اور استحکام کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سے قبل آسٹریا کے چانسلر اسٹاکر نے راج گھاٹ جا کر بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی ’سمادھی‘ پر پھول چڑھائے۔ چانسلر اسٹاکر اپنے چار روزہ ہندوستان دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا ہندوستان اور ایشیا کا دورہ ہے۔ بدھ (15 اپریل) کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی چانسلر اسٹاکر سے ملاقات کی تھی۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔







