عالمی شہرت یافتہ اسلامی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند نے طالب علموں کی تعلیمی سطح کو بہتر بنانے اور انھیں ڈسپلن میں رکھنے کے مقصد سے ایک سخت قدم اٹھایا ہے۔ مینجمنٹ نے ہاسٹل میں رہنے والے سبھی طلبا کے لیے ملٹی میڈیا (اینڈرائیڈ/اسمارٹ فون) موبائل فون کے استعمال پر پوری طرح سے پابندی عائد کر دی ہے۔ مینجمنٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بھی طالب علم کے پاس فون پایا گیا تو اسے فوری اثر سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
دارالعلوم مینجمنٹ کے ذریعہ جاری کردہ حکم میں واضح لفظوں میں کہا گیا ہے کہ یہ اصول سبھی طلبا پر یکساں طور سے نافذ ہوگا۔ چاہے کوئی طالب علم ادارہ میں نیا داخلہ لے رہا ہو، یا وہ پہلے سے پڑھ رہا پرانا طالب علم ہو، کوئی بھی اپنے پاس ملٹی میڈیا موبائل فون نہیں رکھ سکے گا۔ حکم میں یہ بھی صاف کیا گیا ہے کہ فون کا سوئچ آن ہو یا آف ہو، اگر اچانک تلاشی کے دوران وہ طالب علم کے پاس سے برآمد ہوتا ہے تو اس کے لیے پوری طرح سے وہ طالب علم ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔
مینجمنٹ نے ڈسپلن شکنی کے خلاف سخت رخ اختیار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ موبائل پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے طلبا پر سخت سزا کی کارروائی ہوگی۔ اگر کوئی طالب علم چوری چھپے ملٹی میڈیا فون رکھتا ہے، تو اس پر اخراج، یعنی ادارہ سے نام کاٹنے تک کی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حکم پر دیوبند کے استاد قاری اسحاق گورا نے ایک میڈیا ادارہ کو بتایا کہ دارالعلوم دیوبند نے گزشتہ سال بھی ایسی ہی ہدایت جاری کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ دارالعلوم کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا اپنی توجہ اور پورا وقت صرف کتابوں میں لگائیں اور موبائل کی خرافات سے دور رہیں۔ قاری اسحاق نے واضح کیا کہ ہر مدرسہ، مسجد یا کالج کا اپنا ایک الگ نظام ہوتا ہے، جسے درست رکھنے کے لیے وقت وقت پر ایسے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔







